اشاعتیں

مئی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خلیجِ عرب میں کشیدگی: جنگ بندی خطرے میں، ایران کے ہاتھوں حملے کی تردید

تصویر
خلیجِ عرب میں گزشتہ روزوں میں ایک بار پھر شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے، جس نے اپریل کے مہینے میں قائم ہونے والی نازک جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے اس کی سرزمین پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون سے حملے کیے ، جس کے نتیجے میں فجیرہ میں واقع آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا اور تین غیر ملکی زخمی ہوگئے ۔ جہاں ایک طرف متحدہ عرب امارات نے اسے دھشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے، وہیں ایران نے ان الزامات کی مکمل تردید کی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر کسی قسم کے حملے کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور نہ ہی ہے، بلکہ یہ سب کچھ امریکہ کی فوجی جارحیت کا نتیجہ ہے ۔ درحقیقت، یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آرہے ہیں جب امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی راہداری بحال کرنے کے لیے ‘آپریشن پروجیکٹ فریڈم’ کا آغاز کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس صورتحال کو نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے بھی سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ ایران نے متحدہ عرب امارات پر حملوں کی تردید کیوں کی؟ سوال یہ پید...

پاکستان اور بھارت کے درمیان اگلی جنگ پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، تجزیہ کاروں کی وارننگ

تصویر
پہلی جنگ کے بعد ایک سال گزر چکا ہے، لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان خلیج کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ امریکی دانشوروں اور انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق، پاکستان اور بھارت کے درمیان اگلی ممکنہ جنگ نہ صرف زیادہ قریب آ رہی ہے بلکہ اس کی شدت اور تباہ کاریاں ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔ پاک بھارت تنازعات کی تاریخ ہمیشہ سے خونریز رہی ہے، لیکن موجودہ صورت حال میں خطرات کا نیا جہت شامل ہو گیا ہے۔ مئی ۲۰۲۵ میں چار روزہ جنگ نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے امکانات کیوں بڑھ رہے ہیں؟ گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں ممالک میں فوجی تیاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک اسٹیمسن سینٹر کی سینئر فیلو الزبتھ تھریلکے کے مطابق، مئی ۲۰۲۵ کے تصادم کو الگ واقعہ نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز سمجھنا چاہیے۔ دونوں ممالک اب جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہیں، جن میں ڈرون، بیلسٹک میزائل، اور جدید ترین لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ انڈیا نے جنگی کارروائیوں کو "آپریشن سندور" کا نام دیا، جبکہ پاکستان نے اسے ...