پاکستان اور بھارت کے درمیان اگلی جنگ پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، تجزیہ کاروں کی وارننگ


پہلی جنگ کے بعد ایک سال گزر چکا ہے، لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان خلیج کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ امریکی دانشوروں اور انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق، پاکستان اور بھارت کے درمیان اگلی ممکنہ جنگ نہ صرف زیادہ قریب آ رہی ہے بلکہ اس کی شدت اور تباہ کاریاں ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔

پاک بھارت تنازعات کی تاریخ ہمیشہ سے خونریز رہی ہے، لیکن موجودہ صورت حال میں خطرات کا نیا جہت شامل ہو گیا ہے۔ مئی ۲۰۲۵ میں چار روزہ جنگ نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔


پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے امکانات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں ممالک میں فوجی تیاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک اسٹیمسن سینٹر کی سینئر فیلو الزبتھ تھریلکے کے مطابق، مئی ۲۰۲۵ کے تصادم کو الگ واقعہ نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز سمجھنا چاہیے۔

دونوں ممالک اب جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہیں، جن میں ڈرون، بیلسٹک میزائل، اور جدید ترین لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ انڈیا نے جنگی کارروائیوں کو "آپریشن سندور" کا نام دیا، جبکہ پاکستان نے اسے "مارک حق" اور "بنیانِ مرصوص" قرار دیا۔ یہ نام دینے کا سلسلہ بھی بتاتا ہے کہ دونوں ممالک اپنی فتوحات کو عوام کے سامنے کیسے پیش کرنا چاہتے ہیں۔


جوہری ہتھیار رکھنے والے پڑوسی ممالک کے درمیان محدود جنگ کے کیا خطرات ہیں؟

یہ سوال شاید سب سے اہم ہے۔ امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کی سالانہ خطرات رپورٹ کے مطابق، پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنازع کا خطرہ برقرار ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ممالک مکمل پیمانے پر جنگ سے گریز کرنا چاہتے ہیں، لیکن دہشت گرد تنظیمیں ایسے واقعات کو جنم دے سکتی ہیں جو بڑی جنگ کا سبب بن جائیں۔ پہلگام حملہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ جوہری دہلیز کو عبور کیے بغیر محدود روایتی جنگ لڑ سکتے ہیں، لیکن یہ سمجھ "انتہائی خطرناک" ثابت ہو سکتی ہے۔


مئی ۲۰۲۵ کی جنگ نے دونوں ممالک کے لیے کیا سبق چھوڑے؟

مئی ۲۰۲۵ کی پاک بھارت جنگ نے بہت سے اسباق دیے۔ اس جنگ میں ستاسی گھنٹوں کے دوران ایک ہزار سے زائد ڈرونز اور میزائل داغے گئے۔

پاکستان کی طرف سے سب سے بڑی کامیابی بھارتی فضائیہ کے چھ طیاروں کو نشانہ بنانا تھا، جسے "چھ-صفر" کے فارمولے سے پیش کیا گیا۔ خاص طور پر رافیل طیارے کی تباہی نے بھارت کو بڑا جھٹکا دیا، کیونکہ یہ طیارہ بھارت کی فوجی طاقت کا استعارہ سمجھا جاتا تھا۔

دوسری طرف انڈیا نے پاکستان کے اندر نو سے گیارہ اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ان دعوؤں اور حقیقت کے درمیان فرق نے بین الاقوامی مبصرین کو پریشان کر دیا۔

حقیقی جنگ کے ساتھ ساتھ ایک بے مثال انفارمیشن وار بھی لڑی گئی۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے اس محاذ پر غیر متوقع طور پر کامیابی حاصل کی۔ بھارتی میڈیا کی طرف سے پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں کا مقابلہ پاکستانی عوام نے مزاحیہ انداز میں کیا۔

جب کسی بھارتی اینکر نے دعویٰ کیا کہ کراچی کی بندرگاہ تباہ کر دی گئی، تو پاکستانی صحافی نے اسی ریستوراں سے رپورٹ کیا جو مبینہ طور پر تباہ شدہ بندرگاہ کے قریب تھا، اور وہ کھانے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

کولمبیا جرنلزم ریویو نے بھارتی میڈیا کوریج کو "جنگ کا دھواں" قرار دیا، جو خود ساختہ اور گمراہ کن تھا۔

پانی کا بحران پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کا اگلا محاذ کیوں بن سکتا ہے؟

جہاں روایتی جنگ کے خطرات موجود ہیں، وہیں ایک نیا اور انتہائی اہم محاذ سامنے آرہا ہے: پانی۔

انڈیا نے دریائے سندھ کے ۱۹۶۰ کے معاہدے کو "معطل" کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ معاملہ قومی سلامتی کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ پاکستان کی زراعت کا اسی فیصد انحصار دریائے سندھ پر ہے، اور اس پانی کی روک تھام کو اسلام آباد "جنگ کا اعلان" تصور کرتا ہے۔

کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ کے مطابق، اگر کشیدگی بڑھی تو پانی اگلی جنگ کی بنیاد بن سکتا ہے۔


مستقبل کی جنگ میں انفارمیشن وارفیئر کا کیا کردار ہوگا؟

انفارمیشن وارفیئر نے مئی ۲۰۲۵ کی جنگ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے اس محاذ پر یہ ثابت کر دیا کہ وہ بھاری وسائل کے باوجود بھارتی پروپیگنڈے کو شکست دے سکتا ہے۔

بھارت کی سب سے بڑی کمزوری اس کا میڈیا ثابت ہوا۔ بوم لائیو کے مطابق، مئی ۲۰۲۵ میں تمام کیے گئے حقیقت جانچوں کا اڑسٹھ فیصد صرف اس چار روزہ جنگ سے متعلق تھا۔ یہ اعداد و شمار بتاتا ہے کہ بھارتی میڈیا نے کس طرح بے بنیاد خبروں کو ہوا دی۔

دوسری طرف پاکستان نے اپنی کمزوریوں کو خود ہی مزاحیہ انداز میں پیش کیا۔ مثال کے طور پر ایک ٹویٹ میں کہا گیا: "جنگ کرنی ہے تو نو بجے سے پہلے کر لیں — نو بج کر پندرہ منٹ پر ہماری گیس چلی جاتی ہے"۔

یہ خود ساختہ مذاق دراصل ایک ہتھیار تھا، کیونکہ جب آپ خود اپنی کمزوریوں پر ہنسیں تو دوسرا کوئی آپ کو شرمندہ نہیں کر سکتا۔


کیا پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے خلاف محدود روایتی جنگ لڑ سکتے ہیں؟

یہ سوال دیگر تمام سوالات سے زیادہ اہم ہے۔ الزبتھ تھریلکے کے مطابق، دونوں ممالک پچھلی جنگ کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی کمزوریوں پر کام کر رہے ہیں اور نئے حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔

تاہم، "محدود جنگ" کا تصور خود فریب ہے۔ جب دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے ہوں، تو معمولی سی غلط فہمی بھی بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

پاکستان کے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے واضح کیا ہے کہ پاکستان "چہرہ توڑ جواب" دے گا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پاکستان نے "پختہ اسٹریٹجک کلچر" کی وجہ سے روکا۔

امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اور امریکہ جیسی بڑی طاقتوں کا کردار بھی مستقبل کی جنگ میں اہم ہوگا، لیکن موجودہ امریکہ بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے واشنگٹن کی ثالثی مشکل ہو سکتی ہے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقبل قریب میں جنگ ہو سکتی ہے؟

امریکی انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق، جنگ ہوگی یا نہیں، یہ سوال نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ "کب ہوگی"۔ معمولی واقعہ بھی بڑی جنگ کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر دہشت گردی کے واقعات اس ضمن میں انتہائی حساس ہیں۔

سوال: پاک بھارت جنگ میں پانی کا کیا کردار ہوگا؟

پانی اگلا بڑا محاذ ہو سکتا ہے۔ بھارت کی طرف سے دریائے سندھ کے معاہدے کو معطل کرنے کے بعد پاکستان نے اسے "جنگ کا اعلان" قرار دیا ہے۔ چونکہ پاکستان کی زراعت کا انحصار انہی دریاؤں پر ہے، یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے انتہائی حساس ہے۔

سوال: کیا امریکہ اگلی پاک بھارت جنگ میں ثالثی کر سکتا ہے؟

موجودہ صورت حال میں یہ مشکل ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، امریکی صدر کے بار بار ثالثی کا کریڈٹ لینے کے دعوؤں اور امریکہ بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے واشنگٹن کی ثالثی پر بھارت زیادہ خوشگواری سے نہیں دیکھتا۔

سوال: مئی ۲۰۲۵ کی جنگ میں کون سا ملک کامیاب ہوا؟

یہ سوال متنازع ہے۔ فوجی محاذ پر دونوں فریق اپنی فتح کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم، انفارمیشن وارفیئر میں پاکستان نے واضح طور پر کامیابی حاصل کی۔ ڈان اخبار کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے بھارتی میڈیا کے بھاری وسائل کے باوجود سوشل میڈیا پر نمایاں برتری حاصل کی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

یو اے ای کی خاموش سفارت کاری نے کس طرح ایک امریکی کو افغانستان سے گھر پہنچایا