بلوچستان میں اغاذ برائے تاوان کے واقعات: حکومت پریشان، عوام خوفزدہ
بلوچستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران اغاذ برائے تاوان کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس نے نہ صرف صوبائی حکومت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگیاں بھی اجیرن بنا دی ہیں ۔ اغاذ کار اب بچوں سے لے کر کاروباری شخصیات تک کو نشانہ بنا رہے ہیں جس سے پورے صوبے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگوو کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور اغاذ کاروں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کئے گئے۔ بلوچستان میں اغاذ برائے تاوان کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں؟ ماہرین کے مطابق بلوچستان میں اغاذ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی کئی وجوہات ہیں۔ فرسودہ ہتھیاروں کی بھرمار، معاشی بدحالی، روزگار کی کمی، اور علاقے میں موجود غیرقبائلی عناصر اس صورتحال کے اہم عوامل ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالملک بلوچ نے کیچ اور گوادر جیسے حساس علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو بھی اغاذ کاروں کی زد میں قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھیکیدار سیکیورٹی خدشات کے باعث کام نہیں کر پا رہے جس سے صوبے کی ترقی سست پڑ گئی ہے۔ درحقیقت یہ...