ایران کا نیا ۱۴ نکاتی امن منصوبہ: کیا ٹرمپ ہچکچاہٹ چھوڑ کر بات کریں گے؟
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایسے میں ایران کا نیا امن منصوبہ اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ایک بار پھر سفارتی راستے کھل گئے ہیں۔ تہران نے واشنگٹن کے سامنے ایک نظرثانی شدہ تجویز رکھی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں اور انہوں نے ممکنہ فوجی کارروائی کے آپشن کو بھی مسترد نہیں کیا ۔ ایران کا امریکہ کو نیا امن منصوبہ کیوں پیش کیا گیا؟ تقریباً دو ماہ سے جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے ایران کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ ایران نے یہ نیا منصوبہ امریکہ کی ناکہ بندی کے دباؤ کو کم کرنے اور پابندیوں میں نرمی کے حصول کے لیے پیش کیا ہے ۔ یہ منصوبہ درحقیقت ایران کی طرف سے سفارتی عمل کو دوبارہ زندہ کرنے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ تہران اپنی شرائط کو بہتر انداز میں پیش کرنا چاہتا ہے۔ عسکری تصادم سے بچنے اور معاشی تباہی روکنے کے لیے ایران نے پاکستان کو اپنا سفارتی ٹھکانہ بنایا ہے ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کا کیا کردار ہے؟ پاکستان نے نہ صرف ثالث کا کردار ادا کیا بلکہ ...