اشاعتیں

اپریل, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

بلوچستان میں اغاذ برائے تاوان کے واقعات: حکومت پریشان، عوام خوفزدہ

تصویر
بلوچستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران اغاذ برائے تاوان کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس نے نہ صرف صوبائی حکومت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگیاں بھی اجیرن بنا دی ہیں ۔ اغاذ کار اب بچوں سے لے کر کاروباری شخصیات تک کو نشانہ بنا رہے ہیں جس سے پورے صوبے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگوو کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا اور اغاذ کاروں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کئے گئے۔ بلوچستان میں اغاذ برائے تاوان کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں؟ ماہرین کے مطابق بلوچستان میں اغاذ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی کئی وجوہات ہیں۔ فرسودہ ہتھیاروں کی بھرمار، معاشی بدحالی، روزگار کی کمی، اور علاقے میں موجود غیرقبائلی عناصر اس صورتحال کے اہم عوامل ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالملک بلوچ نے کیچ اور گوادر جیسے حساس علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو بھی اغاذ کاروں کی زد میں قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھیکیدار سیکیورٹی خدشات کے باعث کام نہیں کر پا رہے جس سے صوبے کی ترقی سست پڑ گئی ہے۔ درحقیقت یہ...

ایران کا نیا ۱۴ نکاتی امن منصوبہ: کیا ٹرمپ ہچکچاہٹ چھوڑ کر بات کریں گے؟

تصویر
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایسے میں ایران کا نیا امن منصوبہ اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ایک بار پھر سفارتی راستے کھل گئے ہیں۔ تہران نے واشنگٹن کے سامنے ایک نظرثانی شدہ تجویز رکھی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں اور انہوں نے ممکنہ فوجی کارروائی کے آپشن کو بھی مسترد نہیں کیا ۔ ایران کا امریکہ کو نیا امن منصوبہ کیوں پیش کیا گیا؟ تقریباً دو ماہ سے جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے ایران کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ ایران نے یہ نیا منصوبہ امریکہ کی ناکہ بندی کے دباؤ کو کم کرنے اور پابندیوں میں نرمی کے حصول کے لیے پیش کیا ہے ۔ یہ منصوبہ درحقیقت ایران کی طرف سے سفارتی عمل کو دوبارہ زندہ کرنے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ تہران اپنی شرائط کو بہتر انداز میں پیش کرنا چاہتا ہے۔ عسکری تصادم سے بچنے اور معاشی تباہی روکنے کے لیے ایران نے پاکستان کو اپنا سفارتی ٹھکانہ بنایا ہے ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کا کیا کردار ہے؟ پاکستان نے نہ صرف ثالث کا کردار ادا کیا بلکہ ...

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

تصویر
ابوظہبی اور شینزین کے درمیان مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مالیاتی خدمات میں تعاون کا ایک تاریخی مفاہمت نامہ طے پایا ہے۔ ابوظہبی گلوبل مارکیٹ (اے ڈی جی ایم) اور شینزین کے ضلع فوٹیان کی عوامی حکومت کے درمیان یہ معاہدہ کراس بارڈر سرمایہ کاری اور مالیاتی اختراعات کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔  متحدہ عرب امارات اور چین کے درمیان اے آئی فنانس میں معاہدہ کیوں اہم ہے؟ یہ مفاہمت نامہ صرف ایک رسمی دستاویز نہیں بلکہ دو بڑی معیشتوں کے درمیان مستقبل کی راہیں ہموار کرنے والا ایک اسٹریٹجک منصوبہ ہے۔ جہاں ایک طرف ابوظہبی مشرق وسطیٰ کا بڑھتا ہوا مالیاتی مرکز ہے، وہیں شینزین کو "ایشیا کی سلیکن ویلی" بھی کہا جاتا ہے۔ ان دونوں شہروں کے درمیان یہ تعاون مصنوعی ذہانت کو مالیاتی شعبے میں لاگو کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔  درحقیقت، اس معاہدے کے تحت دونوں فریق نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ اور تعلیمی تبادلوں پر بھی کام کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس اقدام کو عالمی مالیاتی نظام میں "پاور شفٹ" قرار دے رہے ہیں۔  اے ڈی جی ایم اور شینزین کے درمیان مفاہمت نامے کے کیا اثرات ہوں گے؟ اس مفاہمت نا...

آٹو پالیسی ۲۰۲۶ء: پاکستان میں درآمدی کاروں کی ڈیوٹی میں تاریخی کمی

تصویر
  پاکستان نے آئی ایم ایف کے ۷ ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت اپنی نئی آٹو پالیسی ۲۰۲۶ء کا اعلان کر دیا ہے جس میں درآمدی کاروں پر ڈیوٹی میں کمی کرنا اہم ترین شق ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف مقامی آٹو انڈسٹری بلکہ عام گاڑی خریدنے والے کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ درحقیقت، یہ پالیسی پاکستان میں درآمدی کاروں پر ڈیوٹی کی شرح کو ۱۰.۶ فیصد سے کم کرکے ۲۰۳۰ء تک ۷.۴ فیصد تک لے جانے کی طرف پہلا قدم ہے۔ پاکستان نے درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی کیوں کم کی ہے؟ اس فیصلے کی سب سے بڑی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والا قرضہ پروگرام ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ تجارتی رکاوٹیں کم کرے اور مقامی صنعت کو مسابقت کے قابل بنائے۔ اسی تناظر میں حکومت نے درآمدی کاروں پر اوسط ڈیوٹی کو کم کرنے کا عندیہ دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف آئی ایم ایف کے دباؤ پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے یا پھر اس کے پیچھے عوام کو ریلیف دینے کا کوئی حقیقی ارادہ بھی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں ریگولیٹری ڈیوٹی اور اضافی کسٹم ڈیوٹی کی وجہ سے درآمدی کاریں عام آدمی کی پہنچ سے دور تھیں۔ نئی آٹو پالیسی ۲۰۲۶ء میں ۴ ٹیکس سطح...

سعودی عرب کی ۳ ارب ڈالر کی امداد: پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نیا سہارا

تصویر
  پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت میں، سعودی عرب نے پاکستان کو ۳ ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس سلسلے کی پہلی قسط کے طور پر، سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ۱۵ اپریل ۲۰۲۶ کو ۲ ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں ۔ یہ مالی اعانت ایسے نازک وقت میں ملی ہے جب پاکستان کو متحدہ عرب امارات کو ۳.۵ ارب ڈالر واپس کرنے ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ تھا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاسوں کے موقع پر اس اہم پیش رفت کا باقاعدہ اعلان کیا ۔ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر سعودی امداد کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ یہ مالی معاونت پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو فوری طور پر تقویت دینے کا ذریعہ بنی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق، ۲ ارب ڈالر کی یہ آمد ملکی کرنسی کو مستحکم کرنے اور درآمدات کی ادائیگیوں کے لیے ضروری لیکویڈیٹی فراہم کرے گی ۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت کا مقصد مالی سال کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر کو ۱۸ ارب ڈالر تک پہنچانا ہے، جو تقریباً ۳.۳ ماہ کی درآمدات کے مساوی ہوں گے ۔ اس طرح کی بڑی مالی اعانت سرمایہ کاروں کا اعتماد ...

پاک فوج کے سربراہ کی تہران آمد: ثالثی کی کوششیں عروج پر

تصویر
پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کو نئی رفتار دیتے ہوئے، پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد ۱۵ اپریل ۲۰۲۶ کو تہران پہنچ گیا۔ یہ دورہ اس وقت انتہائی اہمیت کا حامل ہے جب ۸ اپریل کو طے پانے والی دو ہفتے کی جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے میں صرف چند دن باقی ہیں اور دونوں فریقین کے درمیان دوسرے دور کے مذاکرات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ پاکستان امریکہ ایران ثالثی میں کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں اہم ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی تھی۔ اگرچہ یہ مذاکرات ۲۱ گھنٹے تک جاری رہے لیکن کوئی حتمی معاہدہ طے نہ ہو سکا۔ تاہم دونوں فریقین نے رابطوں کے لیے پاکستانی چینل کو فعال رکھا ہوا ہے۔ آرمی چیف کا تہران دورہ کیوں اہم ہے؟ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ اس میں امریکہ کا ایک نیا پیغام بھی شامل ہے جو ایرانی قیادت تک پ...

اسلام آباد میں تاریخ ساز مذاکرات؛ ریڈ زون سیل، دنیا کی نظریں پاکستان پر

تصویر
دارالحکومت اسلام آباد میں جمعہ اور ہفتہ کو ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد ۲۰۲۶ کے پیش نظر انتظامیہ نے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں ۹ اور ۱۰ اپریل کو دو روزہ عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ اعلیٰ سطحی غیر ملکی وفود کی آمد کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے. امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کیوں اہم ہیں؟ یہ مذاکرات ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو شروع ہونے والی امریکہ ایران جنگ کے بعد ایک ممکنہ سفارتی پیش رفت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس تنازع میں ایران کے سپریم لیڈر سمیت ۱۴۰۰ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں . پاکستان کی قیادت کی کوششوں سے دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن ہوئی ، جس کے بعد یہ مذاکرات طے پائے ہیں۔ یہ مذاکرات نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان براہ راست کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم ہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے استحکام پر ان کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان نے امریکہ ایران جنگ بندی میں ثالثی کیسے کی؟ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان خفیہ سفارتی چینلز قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا . امریکی صدر...

یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر کمائی: ایف بی آر کا نیا ٹیکس نظام اور اس کے اثرات

تصویر
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا انکم ٹیکس کا نیا نظام متعارف کروا دیا ہے۔ اب وہ تمام یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز اور انفلوئنسرز جن کے ۵۰٬۰۰۰ (پچاس ہزار) یا اس سے زائد سبسکرائبرز یا فالوورز ہیں، انہیں اپنی ڈیجیٹل کمائی پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا ۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ مسودہ ترمیم کے مطابق یہ نظام نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی تخلیق کاروں پر بھی لاگو ہوگا جو پاکستانی صارفین سے تعامل کر کے کمائی کرتے ہیں ۔ کیا پاکستان میں یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر کمائی اب ٹیکس کی زد میں آگئی ہے؟ جی ہاں، ایف بی آر نے آرٹیکل ۹۹-سی کے تحت ایک خصوصی طریقہ کار متعارف کروایا ہے جس کے تحت سوشل میڈیا پر ہونے والی کمائی کو اب کاروبار قرار دے کر ٹیکس لگایا جائے گا ۔ اس قانون کا اطلاق ان تمام پلیٹ فارمز پر ہوگا جہاں صارفین کی مصروفیت سے آمدنی ہوتی ہے، جیسے یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک۔ اس قانون کا مقصد ڈیجیٹل شعبے کو شفاف بنانا اور ترقی پذیر سوشل میڈیا اکانومی کو قومی محصولات میں شامل کرنا ہے۔ Pakistan plans tax on social me...

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

تصویر
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان چین کے شہر اُرمچی میں جاری مذاکرات نے علاقائی سیاست میں ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ کے آخر میں شروع ہونے والے یہ مذاکرات فروری سے جاری خونریز تصادم کے بعد جنگ بندی کی پہلی سنجیدہ کوشش ہیں۔ چین کی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات اُس وقت ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں کی بدترین فوجی کشیدگی جاری ہے۔ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان چین میں مذاکرات کیوں ہو رہے ہیں؟ ان مذاکرات کی بنیادی وجہ فروری ۲۰۲۶ میں شروع ہونے والا وہ شدید فوجی تنازع ہے جس نے دونوں طرف سے درجنوں جانیں ضائع کی ہیں۔ چین نے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق، چین کی طرف سے ثالثی کی پیشکش کے بعد دونوں ممالک نے اس موقع کو قبول کیا۔ یہ مذاکرات اُرمچی شہر میں جاری ہیں جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود موجود ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی کی کیا وجہ ہے؟ یہ کشیدگی دراصل برسوں سے جاری عدم اعتماد کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والی ...