آٹو پالیسی ۲۰۲۶ء: پاکستان میں درآمدی کاروں کی ڈیوٹی میں تاریخی کمی


 
پاکستان نے آئی ایم ایف کے ۷ ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کے تحت اپنی نئی آٹو پالیسی ۲۰۲۶ء کا اعلان کر دیا ہے جس میں درآمدی کاروں پر ڈیوٹی میں کمی کرنا اہم ترین شق ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف مقامی آٹو انڈسٹری بلکہ عام گاڑی خریدنے والے کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ درحقیقت، یہ پالیسی پاکستان میں درآمدی کاروں پر ڈیوٹی کی شرح کو ۱۰.۶ فیصد سے کم کرکے ۲۰۳۰ء تک ۷.۴ فیصد تک لے جانے کی طرف پہلا قدم ہے۔


پاکستان نے درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی کیوں کم کی ہے؟

اس فیصلے کی سب سے بڑی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والا قرضہ پروگرام ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ تجارتی رکاوٹیں کم کرے اور مقامی صنعت کو مسابقت کے قابل بنائے۔ اسی تناظر میں حکومت نے درآمدی کاروں پر اوسط ڈیوٹی کو کم کرنے کا عندیہ دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف آئی ایم ایف کے دباؤ پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے یا پھر اس کے پیچھے عوام کو ریلیف دینے کا کوئی حقیقی ارادہ بھی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں ریگولیٹری ڈیوٹی اور اضافی کسٹم ڈیوٹی کی وجہ سے درآمدی کاریں عام آدمی کی پہنچ سے دور تھیں۔


نئی آٹو پالیسی ۲۰۲۶ء میں ۴ ٹیکس سطحیں کیا ہیں؟

پہلے جہاں درآمدی ٹیکس کا نظام انتہائی پیچیدہ تھا وہاں اب حکومت نے اسے آسان بنا دیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت درآمدی کاروں پر صرف ۴ سطحیں ہوں گی: ۰ فیصد، ۵ فیصد، ۱۰ فیصد اور ۱۵ فیصد۔ اس کے علاوہ مکمل طور پر اسمبل شدہ درآمدی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ حد ۱۵ فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین معاشیات اس قدم کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ تاہم مقامی صنعت کے تحفظ کے لیے ابھی بھی کچھ غیر ٹیرف رکاوٹیں برقرار رکھی گئی ہیں۔


کیا پاکستان میں استعمال شدہ درآمدی کاریں سستی ہو جائیں گی؟

اس پالیسی کا سب سے دلچسپ پہلو استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں سے متعلق ہے۔ معاہدے کے مطابق ۲۰۳۰ء تک استعمال شدہ گاڑیوں پر عائد ۴۰ فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے سالوں میں جاپان، دبئی اور دیگر ممالک سے استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کرنا کافی سستا ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متوسط طبقہ بھی اچھی حالت میں استعمال شدہ غیر ملکی کاریں خرید سکے گا۔ تاہم مقامی ڈیلرز اور پرزہ جات کی صنعت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

آئی ایم ایف کے شرائط کے تحت پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو کیا نقصان ہو سکتا ہے؟

جہاں ایک طرف یہ پالیسی صارفین کے لیے خوشخبری ہے وہیں دوسری طرف مقامی آٹو اسمبلرز جیسے پاک سوزوکی، ہنڈا اور ٹویوٹا کے لیے یہ تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ درآمدی کاروں پر ڈیوٹی میں کمی سے مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیاں مہنگی پڑ جائیں گی جس سے ان کی فروخت متاثر ہوگی۔ درحقیقت، اگر حکومت نے مقامی صنعت کو سبسڈی دینے کا کوئی منصوبہ نہ بنایا تو ہزاروں مزدور بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئی پالیسی میں مقامی اسمبلرز کو کچھ تحفظ دینے کی بھی بات کی جا رہی ہے۔


پاکستان کی نئی آٹو پالیسی ۲۰۳۰ء تک درآمدی ٹیکس میں کتنی کمی کرے گی؟

طویل مدتی منصوبے کے مطابق پاکستان میں درآمدی کاروں پر اوسط ٹیکس کی شرح موجودہ ۱۰.۶ فیصد سے کم ہو کر ۲۰۳۰ء تک صرف ۷.۴ فیصد رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ اضافی کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو بھی مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔ پہلی بڑی کمی مالی سال ۲۰۲۶-۲۷ کے بجٹ میں متوقع ہے جہاں اوسط ٹیکس ۹.۵ فیصد کر دیا جائے گا۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے کم آٹو ٹیکس والے ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: کیا پاکستان میں درآمدی کاروں پر ڈیوٹی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی؟

جواب: نہیں، ڈیوٹی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی بلکہ اسے کم کیا جا رہا ہے۔ ۲۰۳۰ء تک اوسط ڈیوٹی ۷.۴ فیصد رہ جائے گی اور زیادہ سے زیادہ ڈیوٹی ۱۵ فیصد ہوگی۔

سوال: کیا پرانی درآمدی گاڑیوں پر ۴۰ فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ابھی ختم ہو گئی؟

جواب: نہیں، یہ ڈیوٹی مرحلہ وار ختم کی جائے گی اور ۲۰۳۰ء تک مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

سوال: کیا مقامی کاروں کی قیمتیں بھی کم ہوں گی؟

جواب: امکان ہے کہ مقامی کمپنیاں مقابلے کی وجہ سے قیمتیں کم کریں، لیکن حکومت نے ابھی اس حوالے سے کوئی لازمی شرط عائد نہیں کی ہے۔

سوال: کیا یہ پالیسی صرف نئی گاڑیوں پر لاگو ہوگی؟

جواب: نہیں، یہ پالیسی نئی اور استعمال شدہ دونوں طرح کی درآمدی گاڑیوں پر لاگو ہوگی، البتہ ریگولیٹری ڈیوٹی استعمال شدہ گاڑیوں پر زیادہ تھی جو اب ختم ہو رہی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

یو اے ای کی خاموش سفارت کاری نے کس طرح ایک امریکی کو افغانستان سے گھر پہنچایا