اشاعتیں

جنوری, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

امریکہ میں فضائی حادثہ: پاکستانی خاتون عسری حسین کی المناک وفات

تصویر
  امریکہ میں فضائی حادثہ: پاکستانی خاتون عسری حسین کی المناک وفات امریکہ میں فضائی حادثہ نے ایک افسوسناک واقعہ پیش کیا جس میں پاکستانی خاتون عسری حسین بھی جاں بحق ہو گئیں۔ یہ حادثہ 30 جنوری 2025 کو پیش آیا جب ایک مسافر طیارہ اور فوجی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں 67 مسافر، طیارے کا عملہ اور 3 فوجی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ عسری حسین کا آخری پیغام عسری حسین کے شوہر، حماد رضا نے میڈیا کو بتایا کہ حادثے سے کچھ وقت پہلے، عسری حسین نے انہیں ایک ٹیکسٹ میسج بھیجا تھا کہ جہاز لینڈ کرنے والا ہے۔ حماد رضا نے فوراً جواب بھیجا، مگر بدقسمتی سے وہ پیغام وصول نہیں ہو سکا، جس پر انہیں تشویش لاحق ہوئی۔ یہ پیغام زندگی کا آخری پیغام ثابت ہوا، اور بعد میں یہ معلوم ہوا کہ عسری حسین اسی حادثے میں جاں بحق ہو گئیں۔ عسری حسین کی شخصیت اور زندگی 26 سالہ عسری حسین اور ان کے 25 سالہ شوہر حماد رضا انڈیانا یونیورسٹی کے گریجویٹ تھے۔ حماد رضا ایک مشہور مالیاتی فرم ارنسٹ اینڈ ینگ میں اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ عسری حسین کو ہوائی سفر پسند نہیں تھا اور وہ ہمیشہ...

جنگ بندی معاہدہ: حماس کا 4 اسرائیلی خواتین کو رہا کرنے کا اعلا

تصویر
  جنگ بندی معاہدہ: حماس کا 4 اسرائیلی خواتین کو رہا کرنے کا اعلان غزہ (24 نیوز) – 25 جنوری 2025: فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت 4 اسرائیلی خواتین کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے دوران حماس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ 4 اسرائیلی خواتین مغویوں میں شامل ہیں اور انہیں آج رہا کیا جائے گا۔ عرب میڈیا کے مطابق، حماس نے ان خواتین کے نام بھی جاری کر دیے ہیں جن میں اسرائیلی فوج کی سپاہی لیری الباگ، کرینہ ایریف، ڈینئیل گلبوا اور نما لیوی شامل ہیں۔ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کے تحت ایک اہم علامت کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کا مقصد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں بہتری لانا ہے۔ جنگ بندی معاہدہ: پس منظر اور اہمیت غزہ میں جنگ بندی معاہدہ کئی ماہ سے جاری جنگ کے بعد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کچھ حد تک امن قائم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان اس معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے حوالے سے حماس نے اسرائیلی مغویوں کی رہائی کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اسرائیل کی طرف سے بھی فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی تیاری کی جا رہی...

پاکستانی دفتر خارجہ کا بھارتی آرمی چیف کے بیان پر ردعمل

تصویر
  پاکستانی دفتر خارجہ کا بھارتی آرمی چیف کے بیان پر ردعمل: ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے حوالے سے بھارت کو احتساب کا سامنا کرنا ہوگا پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی آرمی چیف کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں کئے گئے بیانات کی سختی سے تردید کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت کو دوسرے ممالک میں ریاستی پشت پناہی کے تحت ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے حوالے سے اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ بھارتی آرمی چیف اور وزیر دفاع کے الزامات: پاکستانی دفتر خارجہ نے 13 اور 14 جنوری 2025 کو بھارتی آرمی چیف اُوپندرا دیویدی اور بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر سے متعلق دیے گئے بیانات کی سختی سے تردید کی ہے۔ بھارتی آرمی چیف نے دعویٰ کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 فیصد عسکریت پسندوں کا تعلق پاکستان سے ہے، جبکہ بھارتی وزیر دفاع نے آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیا تھا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ان الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا۔ پاکستان کا موقف: پاکستان کا موقف واضح ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ...

پاکستان کیسے بنا؟

تصویر
  پاکستان کب بنا؟ یہ سوال اگر ہم کسی سے بھی پوچھیں خواہ وہ بچہ ہو یا بزرگ سب کا یہی جواب ہوگا 14 اگست 1947، لیکن اگر ہم یہ پوچھیں کہ پاکستان کیسے بنا تو شاید کم لوگ ہی اس کا جواب دے پائیں گے۔ سر سید احمد خان نے سب سے پہلے دو قومی نظریہ دیا جس سے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ سوچ آگئی تھی کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان دو بڑی قومیں آباد ہیں جن کا مذہب اور طرز زندگی ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ وہیں 1930 میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کیلئے ایک الگ وطن کا نظریہ دیا جہاں مسلمان اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔ اب برصغیر کے مسلمانوں میں اپنے لئے ایک الگ وطن کی سوچ آگئی تھی۔ قیام پاکستان کے لیے طلباء نے اپنا پورا کردار ادا کیا چوہدری رحمت علی نے ملک کیلئے پاکستان کا نام تجویز کیا اور بعض طلباء نے تو پاکستان بننے سے قبل ہی اپنے نام کیساتھ خادم پاکستان لگا لیا تھا۔ طلباء جی جان سے لڑے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے جب تک پاکستان نہیں بن گیا۔ قیام پاکستان کے لئے طلباء کی محنت اور کاوشوں کا اعتراف قائد اعظم نے بھی کیا۔ قیام پاکستان کے لئے اگر علماء کرام کے کردار پر نگاہ ڈالی جائ...

سارے منڈے لگ گئے کام سے میں رہ گیا ‘ٹیکسوارا’

تصویر
  1990 کی دہائی میں جب ہر گلوکار کی جانب سے اپنے گیتوں کے البم نکالنے کا ٹرینڈ چل پڑا تھا تو اس وقت کے معروف سنگر علی حیدر کا یہ گیت نوجوانوں میں بڑا مقبول ہوا تھا، جس کے بول تھے ’’سارے منڈے لگ گئے کام سے، ہائے میں رہ گیا کنوارا‘‘۔ اس وقت خیر سے ہم بھی کنوارے تھے، تو دیگر نوجوانوں کی طرح یہ حسرت بھرا گیت دلچسپی سے دوستوں کی محفل میں نہ صرف سنا کرتے تھے بلکہ موقع محل کی مناسبت سے گنگنایا بھی کرتے تھے۔ جس گلوکار نے یہ گانا گایا، اب وہ بھی ماشا اللہ سے شادی شدہ ہیں اور ہم سمیت دیگر تمام جو یہ گیت سنا کرتے تھے وہ سب بھی کئی دہائی قبل کنوارے سے ’’شادی شدہ‘‘ ہوچکے ہیں۔ قارئین یہ پڑھ کر سوچ رہے ہوں گے کہ جس زمانے کا ذکر ہے، اس اعتبار سے تو اب ہم ادھیڑ عمر میں ہوئے تو یہ باتیں کیوں کررہے ہیں۔ تو یہ بتاتے چلیں کہ آج کا بلاگ ہم اپنے کسی حسرت نا تمام کی یاد میں نہیں بلکہ موجودہ اور مستقبل کے نوجوان کنواروں کی مشکلات کو بھانپ کر پیش بندی کر رہے ہیں۔ شادی ہال میں تقریب پر ودہولڈنگ ٹیکس نافذ کردیا گیا نت نئے ٹیکس نافذ کرنا ہماری حکومتوں کا سب سے پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ ہماری ٹیکس پسند حکومتیں، جو...

بائیو ویپن اور استعمال

تصویر
  سال 2025 کے آغاز میں چائنہ میں پھیلنے والا وائرس ایچ ایم پی وی  سب کی توجہ کا محور ہے، اس کی ایک  وجہ یہ بھی ہے کہ آج کے دور میں جہاں کنوینشنل جنگیں لڑی جا رہی ہیں تو وہیں بائیولوجیکل جنگ کے بادل بھی منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ یہ جنگ کیا ہے اور اس سے کیسے نبرد آزما ہوا جا سکتا ہے یہ جاننا بہت ضروری ہو تا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پراگر کوئی انسان ساختہ جرثومہ کسی طرح لیبارٹری سے  غا ئب ہوجائے، تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ کچھ مصنوعی جراثیم اتنی زیادہ تعداد میں لوگوں کو ہلاک کرنے اور اتنا زیادہ معاشی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جتنا کہ کورونا وائرس نے کیا تھا۔ بدترین صورتِ حال میں، عالمی اموات کی شرح بلیک ڈیتھ (طاعون) سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جس نے یورپ میں ہر تین میں سے ایک شخص کو ہلاک کیا تھا۔ایسی تباہی کو روکنا دنیا کے رہنماؤں کی ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو دیگر بڑے عالمی چیلنجز جتنا پیچیدہ ہے ایک صدی سے زیادہ عرصے تک، زیادہ تر لوگ بیالوجی کو ترقی کے لیے ایک طاقت کے طور پر دیکھتے آئے ہیں۔ اکیسویں صدی کے اوائل تک، ویکسین نے انسانیت کو چیچک اور ...

مفاہمت میں ہے سب کی جیت

تصویر
  انائیں جب حد سے بڑھ جائیں تو پھر امن،سکون اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن جاتی ہیں۔ ملکی سیاست میں سوائے اناوں کی تسکین کے کوئی دوسرا جھگڑا نظر نہیں آتا۔ حزب اختلاف سیاسی عدم استحکام کو دوام بخشنے میں اور حزب اقتدار مخالفین کو تن کر رکھنے میں ہی اپنی بقاء سمجھتے ہیں۔ تحریک انصاف اس وقت دو نظریاتی گروپوں میں تقسیم ہے۔ ایک گروپ عمران خان کو بزور طاقت باہر نکلوانا چاہتا ہے تو دوسرا گروپ مل بیٹھ کر معاملات کا حل چاہتا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا دور دور تک کوئی وجود نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران بھی اختیارات سے مکمل طور پر بے اختیار ہوتے ہیں۔ پیپلز پارٹی میں تمام تر پارٹی آصف علی زرداری،مسلم لیگ ن میں نواز شریف اور شہباز شریف جبکہ پی ٹی آئی میں عمران خان کے گرد گھومتی ہے۔ پارٹی کے باقی تمام رہنماؤں کا کام صرف مرکزی قیادت کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے کا کوئی وجود نہیں ہوتا بلکہ خوشامد اور جی حضوری ہی قابلیت کا معیار ہوتی ہے۔تحریک انصاف کو بھی اس وقت اسی مشکل کا سامنا ہے کہ پارٹی کے آئینی چئیرمین بی...

دوسرا بلاگ: انسانوں کے اندرونی جذبات کا تجزیہ

 انسانوں کے جذبات بہت پیچیدہ ہوتے ہیں۔ ہم مختلف حالات میں مختلف ردعمل ظاہر کرتے ہیں، لیکن ان ردعمل کے پیچھے ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہانی ہوتی ہے۔ کبھی خوشی کی لہریں ہمیں گھیر لیتی ہیں، تو کبھی غم ہمیں اندر تک چھو لیتا ہے۔ لیکن کیا ہم اپنے جذبات کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں؟ انسانی ذہن ایک بہت پیچیدہ نظام ہے، جو ہر لمحہ مختلف کیفیات کا سامنا کرتا ہے۔ ہم اکثر اپنے جذبات کا اظہار کسی مخصوص ردعمل کے طور پر کرتے ہیں، مگر اصل میں یہ جذبات ہمارے اندر کی گہرائیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہمارے خیالات اور احساسات کا آپس میں تعلق ہوتا ہے، اور جب یہ دونوں آپس میں ملتے ہیں تو ہمیں ایک نیا تجربہ ملتا ہے۔ اس بلاگ میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ہمارے اندرونی جذبات کس طرح ہمارے فیصلوں اور زندگی کے دیگر پہلوؤں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ کیا ہم ہمیشہ اپنے جذبات کا سامنا صحیح طریقے سے کرتے ہیں؟ اور کیا ہمیں اپنی اندرونی دنیا کو سمجھنا ضروری ہے؟ یہ بلاگ ہمیں اپنے جذبات اور خیالات کو بہتر طریقے سے سمجھنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔

پہلا بلاگ: قدرتی خوبصورتی کا راز

تصویر
      قدرتی مناظر ہمیشہ انسان کی روح کو سکون دینے والے ہوتے ہیں۔ جب ہم پہاڑوں کی بلندیوں کو دیکھتے ہیں، درختوں کی سبز چادر کے نیچے بیٹھتے ہیں، اور جھیل کی چمکدار سطح پر نظر ڈالتے ہیں، تو یہ سب کچھ ہمارے اندر ایک عجیب سی خوشی اور سکون پیدا کرتا ہے۔ ان قدرتی مناظرات میں چھپے راز، ہماری روزمرہ کی زندگی کی تیز رفتاری سے دور ایک عالمگیر سکون کی تجدید کرتے ہیں۔ قدرت کا یہ خوبصورت مظہر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی میں سادگی اور سکون کی اہمیت کتنی ہے۔ ہم جب ان قدرتی مناظرات کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں اپنی مشکلات اور پریشانیوں کا بوجھ کم محسوس ہوتا ہے۔ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ ہمیشہ خوبصورت چیزوں کی تلاش کرتا ہے، اور یہ قدرتی مناظر ان خوبصورتیوں میں شامل ہیں جو ہمیں سکون اور پُرسکون زندگی کی طرف رہنمائی دیتے ہیں۔ اس بلاگ کا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنے روزمرہ کے مصروف شیڈول سے کچھ لمحوں کے لیے نکل کر قدرت کی خوبصورتی کا مشاہدہ کریں اور اس سے حاصل ہونے والی راحت کا لطف اٹھائیں