پاکستانی دفتر خارجہ کا بھارتی آرمی چیف کے بیان پر ردعمل
پاکستانی دفتر خارجہ کا بھارتی آرمی چیف کے بیان پر ردعمل: ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے حوالے سے بھارت کو احتساب کا سامنا کرنا ہوگا
پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی آرمی چیف کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں کئے گئے بیانات کی سختی سے تردید کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت کو دوسرے ممالک میں ریاستی پشت پناہی کے تحت ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے حوالے سے اپنا احتساب کرنا چاہیے۔
بھارتی آرمی چیف اور وزیر دفاع کے الزامات:
پاکستانی دفتر خارجہ نے 13 اور 14 جنوری 2025 کو بھارتی آرمی چیف اُوپندرا دیویدی اور بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر سے متعلق دیے گئے بیانات کی سختی سے تردید کی ہے۔ بھارتی آرمی چیف نے دعویٰ کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 فیصد عسکریت پسندوں کا تعلق پاکستان سے ہے، جبکہ بھارتی وزیر دفاع نے آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیا تھا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ان الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا۔
پاکستان کا موقف:
پاکستان کا موقف واضح ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ بھارت کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے دعوے کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق نہیں ہے۔
پاکستان نے کہا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے ایسے اشتعال انگیز بیانات دینے سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارت کے آمرانہ ہتھکنڈوں پر سے عالمی توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی۔ بھارت ان بیانات کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ نہ صرف بین الاقوامی سطح پر مذمت کا مستحق ہے بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔
ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی پر بھارت کا احتساب:
پاکستانی دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ بھارت کو دوسرے ملکوں میں ہونے والی ریاستی پشت پناہی سے متعلق ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات کا احتساب کرنا چاہیے۔ بھارت پر الزام ہے کہ وہ بعض ممالک میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر اپنے سیاسی مفادات کو آگے بڑھانا ہے۔
علاقائی امن اور عالمی ردعمل:
پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے کیے جانے والے اشتعال انگیز بیانات اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر دھیان دے۔ عالمی سطح پر بھارت کے ان بیانات کو یکسر مسترد کیا جانا چاہیے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جا سکے اور کشمیری عوام کو ان کے حق خودارادیت کے حوالے سے انصاف مل سکے۔
نتیجہ:
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے حقوق کو نظرانداز کرنا اور بے بنیاد الزامات عائد کرنا خطے میں امن کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی حمایت کی ہے۔
مستقبل میں تعلقات کی نوعیت:
پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کو اس نوعیت کے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرنا چاہیے اور اپنی داخلی اور بین الاقوامی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔ پاکستان اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام عالمی فورمز پر آواز اٹھاتا رہے گا اور مسئلہ کشمیر کے حل تک چین سے نہیں بیٹھے گا۔
خلاصہ:
پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی قیادت کے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے بارے میں دیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے داخلی معاملات اور دہشت گردی کے حوالے سے احتساب کرے۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستان نے عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر آواز اٹھانے کی درخواست کی ہے تاکہ کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts