امریکہ ایران جنگ: مِڈل پاور کے طور پر پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار
اسلام آباد۔ دنیا کی آنکھیں آج اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں۔ جہاں ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان برسوں پرانی دشمنی نے مشرق وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا ہے، وہیں دوسری طرف پاکستان امریکہ ایران ثالثی مذاکرات کی میزبانی کے ذریعے خطے میں امن کی راہیں ہموار کرنے کے لیے اپنی سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے۔ یہ صرف ایک سفارتی کوشش نہیں بلکہ مِڈل پاور کے طور پر پاکستان کی اُبھرتی ہوئی حیثیت کی نئی تعریف ہے۔ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش کیوں کر رہا ہے؟ پاکستان کی یہ پیشکش محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جو امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے۔ ایک طرف پاکستان امریکہ کا میجر نان نیٹو اتحادی ہے اور دوسری طرف ایران سے اس کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت اور چین کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات اسے ایک ایسی حیثیت دیتے ہیں جو کسی اور کے پاس نہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان "بامعنی اور فیصلہ کن مذاکرات" کی میزبانی کے لیے تیار ہے . درحقیقت یہ پاکستان کی ...