امریکہ ایران جنگ: مِڈل پاور کے طور پر پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار



اسلام آباد۔ دنیا کی آنکھیں آج اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں۔ جہاں ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان برسوں پرانی دشمنی نے مشرق وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا ہے، وہیں دوسری طرف پاکستان امریکہ ایران ثالثی مذاکرات کی میزبانی کے ذریعے خطے میں امن کی راہیں ہموار کرنے کے لیے اپنی سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے۔ یہ صرف ایک سفارتی کوشش نہیں بلکہ مِڈل پاور کے طور پر پاکستان کی اُبھرتی ہوئی حیثیت کی نئی تعریف ہے۔


پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش کیوں کر رہا ہے؟

پاکستان کی یہ پیشکش محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جو امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے۔ ایک طرف پاکستان امریکہ کا میجر نان نیٹو اتحادی ہے اور دوسری طرف ایران سے اس کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت اور چین کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات اسے ایک ایسی حیثیت دیتے ہیں جو کسی اور کے پاس نہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان "بامعنی اور فیصلہ کن مذاکرات" کی میزبانی کے لیے تیار ہے . درحقیقت یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا نیا باب ہے جو اسے علاقائی اور عالمی سطح پر ایک مؤثر ثالث کے طور پر متعارف کرا رہا ہے۔


امریکہ ایران جنگ میں پاکستان کا کردار کیا ہے؟

پاکستان کا کردار صرف پیغام رسانی تک محدود نہیں ہے۔ ۲۶ مارچ کو ڈپٹی وزیراعظم اسحٰق ڈار نے باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پاکستان کے ذریعے پیغامات کی ترسیل سے جاری ہیں . انہوں نے بتایا کہ امریکہ کی طرف سے ۱۵ نکات پر مشتمل تجاویز دی گئی ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے۔ یہ وہی ۱۵ نکات ہیں جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سامنے رکھا ہے۔ پاکستان نے یہ کردار ترکی اور مصر کے ساتھ مل کر انجام دیا ہے۔ یہ تینوں ممالک امریکہ اور ایران کے درمیان ایک پل کا کام کر رہے ہیں۔


پاکستان کی ثالثی سے مشرق وسطیٰ میں امن کی راہیں کھلیں گی؟

یہ سوال آج ہر تجزیہ کار کی زبان پر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی یہ کوشش جنگ بندی کی پہلی واضح مثال بن چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ۲۴ مارچ کو ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں میں پانچ روز کی عارضی روک تھام کا اعلان کیا . یہ پاکستان، ترکی اور مصر کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی طرف سے امریکی تجویز ایران تک پہنچائی گئی اور ایرانی حکومت نے اس پر غور شروع کر دیا۔ البتہ ابھی راستہ طویل ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ جنگ صرف اپنی شرائط پر ختم کرے گا . ان شرائط میں حملوں کا مکمل خاتمہ، معاوضے کی ادائیگی، اور آئندہ حملوں کی روک تھام کی ضمانتیں شامل ہیں۔


ایران نے امریکہ کی ثالثی پیشکش پر کیا ردعمل دیا؟

ایران کا موقف بظاہر سخت ہے لیکن عملی طور پر وہ بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی حکام نے سرکاری طور پر کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے  لیکن انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ دوست ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حال ہی میں پاکستان کے ساتھ رابطے میں اضافہ کیا ہے . ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے اپنی پانچ شرائط طے کر لی ہیں جن پر وہ کسی بھی معاہدے کے لیے اصرار کرے گا . ان شرائط میں آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کی بین الاقوامی تسلیم شدگی بھی شامل ہے۔


پاکستان کی سفارتی حکمت عملی عالمی سطح پر کیسے دیکھی جا رہی ہے؟

عالمی سطح پر پاکستان کی اس کوشش کو سراہا جا رہا ہے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے پاکستان کی پیشکش کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بامعنی مذاکرات کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے . سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے وزیراعظم کی ٹیلی فونک گفتگو نے بھی اس کوشش کو مضبوط کیا . البتہ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان صرف ایک "پوسٹ مین" کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال میں جہاں امریکہ اور ایران کے براہ راست تعلقات نہیں ہیں، ایسے میں پاکستان جیسے قابل اعتماد ثالث کی ضرورت ہے۔


پاکستان کی ثالثی کے ممکنہ اثرات کیا ہوں گے؟

اگر پاکستان کی یہ کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے۔ پہلا اثر یہ کہ پاکستان ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا جیسا کہ ۱۹۷۰ کی دہائی میں چین اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار تھا . دوسرا اثر یہ کہ مشرق وسطیٰ میں توانائی کی فراہمی بحال ہو گی اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہوں گی۔ تیسرا اثر یہ کہ پاکستان کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا کیونکہ خطے میں استحکام کا مطلب پاکستان کے لیے بھی اقتصادی مواقع ہیں۔ البتہ یہ راستہ آسان نہیں ہے۔ ایران ابھی تک مکمل طور پر مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے اور اسے امریکہ کی جانب سے ضمانتیں درکار ہیں .


FAQs

سوال: پاکستان امریکہ ایران مذاکرات کی میزبانی کیسے کر سکتا ہے؟

جواب: پاکستان نے اسلام آباد میں متعدد مقامات بشمول وزیراعظم ہاؤس، صدر ہاؤس اور پانچ ستارہ ہوٹلوں کو ممکنہ مقامات کے طور پر منتخب کیا ہے۔ یہ مقامات دونوں فریقین کے لیے قابل قبول اور سیکیورٹی کے لحاظ سے محفوظ ہوں گے.

سوال: امریکہ کے ۱۵ نکات کیا ہیں جو ایران کو بھیجے گئے؟

جواب: یہ ۱۵ نکات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے سامنے رکھی گئی تجاویز ہیں جن پر اسحٰق ڈار نے ۲۶ مارچ کو تصدیق کی کہ ایران ان پر غور کر رہا ہے.

سوال: پاکستان کی ثالثی سے مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم ہو سکتی ہے؟

جواب: جنگ کے خاتمے کا دارومدار دونوں فریقین کی مرضی پر ہے۔ پاکستان نے مذاکرات کا راستہ ہموار کر دیا ہے لیکن ایران نے پانچ شرائط رکھی ہیں جن میں معاوضے کی ادائیگی اور آئندہ حملوں کی روک تھام شامل ہے.

سوال: ترکی اور مصر کا اس ثالثی میں کیا کردار ہے؟

جواب: ترکی اور مصر پاکستان کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں معاونت کر رہے ہیں۔ اسحٰق ڈار نے ان دونوں ممالک کے کردار کو سراہا ہے.

سوال: ایران پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کرتا ہے؟

جواب: پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط ہیں۔ ایران نے ماضی میں بھی پاکستان کے ذریعے امریکہ سے رابطہ کیا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے ابھی باضابطہ طور پر مذاکرات کی میزبانی کی تصدیق نہیں کی گئی.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

یو اے ای کی خاموش سفارت کاری نے کس طرح ایک امریکی کو افغانستان سے گھر پہنچایا