یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر کمائی: ایف بی آر کا نیا ٹیکس نظام اور اس کے اثرات
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا انکم ٹیکس کا نیا نظام متعارف کروا دیا ہے۔ اب وہ تمام یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز اور انفلوئنسرز جن کے ۵۰٬۰۰۰ (پچاس ہزار) یا اس سے زائد سبسکرائبرز یا فالوورز ہیں، انہیں اپنی ڈیجیٹل کمائی پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ مسودہ ترمیم کے مطابق یہ نظام نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی تخلیق کاروں پر بھی لاگو ہوگا جو پاکستانی صارفین سے تعامل کر کے کمائی کرتے ہیں ۔
کیا پاکستان میں یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر کمائی اب ٹیکس کی زد میں آگئی ہے؟
جی ہاں، ایف بی آر نے آرٹیکل ۹۹-سی کے تحت ایک خصوصی طریقہ کار متعارف کروایا ہے جس کے تحت سوشل میڈیا پر ہونے والی کمائی کو اب کاروبار قرار دے کر ٹیکس لگایا جائے گا ۔ اس قانون کا اطلاق ان تمام پلیٹ فارمز پر ہوگا جہاں صارفین کی مصروفیت سے آمدنی ہوتی ہے، جیسے یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک۔ اس قانون کا مقصد ڈیجیٹل شعبے کو شفاف بنانا اور ترقی پذیر سوشل میڈیا اکانومی کو قومی محصولات میں شامل کرنا ہے۔
Pakistan plans tax on social media earnings, applying to creators with over 50,000 subscribers under draft rules — FBR https://t.co/cwCu3Yi1bE
— Arab News Pakistan (@arabnewspk) April 2, 2026
پچاس ہزار سبسکرائبرز والے انفلوئنسرز پر ٹیکس کی شرح کیا ہوگی؟
ٹیکس کا حساب لگانے کے لیے ایف بی آر نے ایک معیاری فارمولا وضع کیا ہے۔ بورڈ نے یوٹیوب کی ۱٬۰۰۰ ویوز پر مبینہ آمدنی ۱۹۵ روپے مقرر کی ہے ۔ اس کے بعد تخلیق کار کی کل سالانہ آمدنی کا تعین کیا جائے گا۔ قابلِ محصول آمدنی کا حساب لگانے کے لیے تخلیق کار کل آمدنی کا ۳۰ فیصد اخراجات کے طور پر کاٹ سکتے ہیں ۔ ٹیکس کی حتمی شرح انکم ٹیکس کے معمول کے سلیبس کے تحت لاگو ہوگی، البتہ ایڈوانس ٹیکس سہ ماہی بنیادوں پر ادا کرنا ہوگا۔
ایف بی آر کی جانب سے سوشل میڈیا انکم پر ۳۰ فیصد اخراجات کی چھوٹ کیسے ملے گی؟
نئے قانون میں تخلیق کاروں کو ریلیف دیتے ہوئے یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ اپنی کل آمدنی کا ۳۰ فیصد حصہ مختلف اخراجات (جیسے انٹرنیٹ بل، آلات کی خریداری، سافٹ ویئر، اور اسٹوڈیو کے کرایے وغیرہ) کی مد میں ظاہر کر سکتے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی یوٹیوبر کی سالانہ آمدنی ۱ ملین روپے ہے، تو وہ صرف ۷۰۰٬۰۰۰ روپے پر ٹیکس ادا کرے گا، بشرطیکہ اس کے پاس اخراجات کا کوئی ریکارڈ موجود ہو۔ یہ طریقہ کار چھوٹے اور درمیانے درجے کے تخلیق کاروں کے لیے ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
کیا غیر ملکی یوٹیوبرز کو بھی پاکستان میں ٹیکس دینا ہوگا؟
اس قانون کی سب سے اہم اور منفرد شق یہ ہے کہ یہ صرف پاکستانی شہریوں تک محدود نہیں ہے۔ اگر کوئی غیر ملکی تخلیق کار پاکستان میں موجود صارفین سے تعامل کرتا ہے اور اس کے ۵۰٬۰۰۰ سے زائد پاکستانی فالوورز ہیں یا پھر ایک سہ ماہی میں اس کے ۱۲٬۲۵۰ پاکستانی ناظرین ہیں، تو وہ بھی ٹیکس کی زد میں آئے گا ۔ ایف بی آر کے مطابق، اس طرح کی آمدنی کو پاکستانی ماخذ کی آمدنی تصور کیا جائے گا۔ یہ اقدام ڈیجیٹل دنیا میں ملکی خودمختاری اور ٹیکس کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی جانب ایک جرات مندانہ پیشرفت ہے۔
سوشل میڈیا ٹیکس کے نفاذ سے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟
ماہرین کے مطابق اس اقدام کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک طرف جہاں اس سے حکومت کو محصولات میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی، وہیں دوسری طرف یہ فری لانسنگ اور تخلیقی صنعت کو فروغ دینے میں رکاوٹ بھی بن سکتا ہے ۔ تاہم، طویل مدت میں یہ قانون ڈیجیٹل معیشت کو رسمی حیثیت دیتا ہے، جس سے تخلیق کاروں کے لیے بینک قرضے اور دیگر مالیاتی سہولیات حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔ شفافیت آنے سے اشتہاری کمپنیوں کا اعتماد بھی بڑھے گا، جو ملکی ڈیجیٹل مارکیٹنگ انڈسٹری کے لیے ایک صحت مند علامت ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
سوال: کیا ۵۰٬۰۰۰ سے کم سبسکرائبرز والے چینلز پر ٹیکس نہیں لگے گا؟
جواب: فی الحال ایف بی آر نے مسودے میں واضح کیا ہے کہ یہ قانون صرف انہی افراد پر لاگو ہوگا جو ایک ٹیکس سال میں ۵۰٬۰۰۰ یا اس سے زائد سبسکرائبرز رکھتے ہیں یا ایک سہ ماہی میں ۱۲٬۲۵۰ ویوز حاصل کرتے ہیں ۔ اس سے کم والوں کو اس قانون کے دائرہ کار سے باہر رکھا گیا ہے۔
سوال: کیا یوٹیوبرز کو انکم ٹیکس ریٹرن میں سوشل میڈیا انکم الگ سے دکھانی ہوگی؟
جواب: جی ہاں، ایف بی آر کے مطابق سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ریٹرن فارم میں ایک علیحدہ سیکشن میں ظاہر کرنا لازمی ہوگا ۔ اگر کوئی تخلیق کار اپنی آمدنی چھپاتا ہے یا کم ظاہر کرتا ہے تو ٹیکس اتھارٹی کو فرق کی وصولی کا اختیار ہوگا۔
سوال: کیا ایف بی آر نے اس قانون پر عوام سے آراء طلب کی ہیں؟
جواب: جی ہاں، ایف بی آر نے یہ مسودہ جاری کرتے ہوئے اسٹیک ہولڈرز (تخلیق کاروں، ماہرین اقتصادیات) سے ۷ روز میں اعتراضات اور تجاویز طلب کی ہیں ۔ اس مدت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ اس میں ابھی مزید ترمیم ممکن ہے۔
سوال: ایڈوانس ٹیکس کا نظام کیسے کام کرے گا؟
جواب: اس نظام کے تحت تخلیق کاروں کو اپنی متوقع سالانہ آمدنی کے مطابق ہر تین ماہ بعد ایڈوانس ٹیکس جمع کروانا ہوگا ۔ سال کے آخر میں جب اصل ریٹرن جمع کرایا جائے گا، تو ایڈوانس میں دی گئی رقم کو ایڈجسٹ کر لیا جائے گا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts