خلیجِ عرب میں کشیدگی: جنگ بندی خطرے میں، ایران کے ہاتھوں حملے کی تردید
خلیجِ عرب میں گزشتہ روزوں میں ایک بار پھر شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے، جس نے اپریل کے مہینے میں قائم ہونے والی نازک جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے اس کی سرزمین پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون سے حملے کیے، جس کے نتیجے میں فجیرہ میں واقع آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا اور تین غیر ملکی زخمی ہوگئے ۔ جہاں ایک طرف متحدہ عرب امارات نے اسے دھشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے، وہیں ایران نے ان الزامات کی مکمل تردید کی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر کسی قسم کے حملے کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور نہ ہی ہے، بلکہ یہ سب کچھ امریکہ کی فوجی جارحیت کا نتیجہ ہے ۔
درحقیقت، یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آرہے ہیں جب امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی راہداری بحال کرنے کے لیے ‘آپریشن پروجیکٹ فریڈم’ کا آغاز کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس صورتحال کو نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے بھی سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
ایران نے متحدہ عرب امارات پر حملوں کی تردید کیوں کی؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع اور عالمی میڈیا حملوں کی تصدیق کر رہے تھے، تو ایران نے اپنا مؤقف بدستور برقرار رکھتے ہوئے ان الزامات کی مکمل تردید کیوں کی؟ ایران کے سرکاری میڈیا نے ایک اعلیٰ فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ تہران کا "متحده عرب امارات یا اس کے آئل فیلڈز کو نشانہ بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا" ۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ حملے دراصل امریکی بحریہ کی ‘ایڈونچرازم’ کے نتیجے میں پیش آئے جب امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں غیر قانونی راہداری بنانے کی کوشش کی ۔
اسی تناظر میں، ایران نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ امریکہ نے خود جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک آئل ٹینکر اور ایک جہاز پر حملہ کیا، جس کے جواب میں ایرانی فورسز نے امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا ۔ گویا تہران اس پوری صورتِ حال کو واشنگٹن کی طرف سے شروع کی گئی ایک نئی جارحیت کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ امریکہ اس کے برعکس ایران کو حملہ آور قرار دے رہا ہے۔
#BREAKING: Iran denies having launched attacks against the UAE in the past two days - State media
— The New Region (@thenewregion) May 5, 2026
“The armed forces of the Islamic Republic of Iran have not carried out any missile or drone operations against the UAE in the past few days,” says Ebrahim Zolfaghari, spokesperson… pic.twitter.com/LSn4fRP1jr
فجیرہ حملے کے بعد خطے میں کشیدگی کیوں بڑھی؟
فجیرہ کی بندرگاہ خلیجِ عرب میں واقع ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک مقام ہے۔ یہ واحد علاقہ ہے جو آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے، جس کی وجہ سے یہ خلیج کی تیل کی رسد کے لیے ایک ‘بی آؤٹ’ آپشن کا کام کرتا ہے ۔ جب ایران نے فجیرہ میں موجود آئل انڈسٹری زون کو نشانہ بنایا، تو اس سے عالمی منڈیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ حملہ نہ صرف متحدہ عرب امارات کی معیشت کے لیے بلکہ پوری خلیجی سلامتی کے لیے ایک ‘ریڈ لائن’ کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے قبل اپریل کی جنگ بندی کے بعد سے خلیج میں ایک قسم کی غیر مستحکم امن قائم تھی، لیکن فجیرہ حملے نے اس امن کو توڑ دیا ۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے اس حملے کو ‘غدارانہ ایرانی جارحیت’ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور کہا کہ عرب قومی سلامتی غیر منقسم ہے ۔ اسرائیل کے آئرن ڈوم سسٹم کی موجودگی نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ اطلاعات ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں تعینات اسرائیلی اینٹی میزائل سسٹم نے ان میں سے کچھ میزائلوں کو ہوا میں ہی تباہ کردیا ۔
امریکی بحریہ اور ایرانی فورسز کے درمیان تصادم اور آپریشن پروجیکٹ فریڈم
آبنائے ہرمز میں صورتحال انتہائی نازک ہے۔ امریکہ نے ‘آپریشن پروجیکٹ فریڈم’ کے تحت نہ صرف اپنی جنگی جہازوں کو اس آبنائے میں اتارا بلکہ اس نے ایرانی فورسز کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ سنٹکام کے مطابق، ایرانی فورسز نے متعدد کروز میزائل، ڈرون اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں امریکہ نے چھ ایرانی کشتیوں کو تباہ کردیا ۔
دوسری طرف، ایران نے ان کشتیوں کے ڈوبنے کی خبروں کی بھی تردید کی ہے ۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات کو "دلدل میں واپس گھسیٹے جانے سے بچنا چاہیے" ۔ اس آپریشن کا مقصد اگرچہ تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنا بتایا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی ایک امریکی کوشش ہے۔
ایران پر پابندیوں کے معاشی اثرات اور خلیجی ممالک کے لیے خطرات
یہ تنازع معاشی پہلو سے بھی بہت اہم ہے۔ ایران پر امریکی پابندیوں نے اس کی تیل برآمدات کو تقریباً صفر کر دیا ہے، جس کی وجہ سے ایرانی معیشت شدید بحران کا شکار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایران بظاہر اپنے اندرونی بحران کو باہر کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہا ہے ۔
اسی کے برعکس، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے مطابق، ۲۸ فروری سے اب تک ایران نے خلیجی ممالک پر ۵۴۹ بیلسٹک میزائل، ۲۹ کروز میزائل اور ۲۲۶۰ ڈرون سے حملے کیے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات پر سب سے زیادہ حملے ہوئے ہیں، جس نے دبئی کے برج العرب، جبل علی پورٹ اور فیصل حاصل ڈیٹا سینٹرز کو بھی نشانہ بنایا ۔ یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ خلیجی ممالک کی معیشتیں کتنی کمزور ہوچکی ہیں، اور وہ مستقبل میں اپنے دفاع کے لیے نئی حکمت عملی اپنائیں گے۔
عالمی ردعمل اور مستقبل کی صورتِ حال
بین الاقوامی برادری نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود میں الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ۔ اقوام متحدہ اور عرب لیگ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی جارحیت بند کرے ۔
تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت بھی تعطل کا شکار ہے ۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خلیجِ عرب میں ایک بار پھر مکمل جنگ چھڑ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔
۔ اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: کیا ایران نے واقعی متحدہ عرب امارات پر حملہ کیا؟
متحدہ عرب امارات نے دفاعی وزارت کے ذریعے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے اس کے خلاف ڈرون اور میزائل حملے کیے، جبکہ ایران نے ان الزامات کی مکمل تردید کی ہے اور اسے امریکہ کی ‘ایڈونچرازم’ قرار دیا ہے ۔
سوال: فجیرہ کی بندرگاہ اس تنازع میں کیوں اہم ہے؟
فجیرہ خلیجِ عرب کی واحد بڑی بندرگاہ ہے جو آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہے۔ یہ خلیج کی تیل کی رسد کے لیے ایک اسٹریٹجک متبادل راستہ ہے، اس لیے اس پر حملہ عالمی تیل کی سپلائی کے لیے خطرہ ہے ۔
سوال: آپریشن پروجیکٹ فریڈم کا مقصد کیا ہے؟
یہ امریکہ کا ایک فوجی آپریشن ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنا اور ایران کے سمندری محاصرے کو توڑنا ہے، جسے ایران اپنی خودمختاری کے خلاف اقدام سمجھتا ہے ۔
سوال: کیا اسرائیل اس تنازع میں ملوث ہے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق، متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی آئرن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم نصب ہے جس نے ایرانی میزائلوں کو روکنے میں مدد کی۔ تاہم، اسرائیل نے اس پر سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts