امریکہ اور ایران کے درمیان دوسری شب بھی حملوں کا تبادلہ، خلیجی ممالک میں خوف و ہراس
سات جولائی دو ہزار چھبیس کو امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی جس کا اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا۔ ان حملوں کی وجہ آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر ایران کے حملے تھے۔ امریکہ نے ایران کی بحری فوج کے ساٹھ چھوٹی کشتیوں سمیت اسی اہداف کو تباہ کیا۔ اگلی شب امریکہ نے مزید نوے اہداف کو نشانہ بنایا، جس میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، کروز میزائل اور ڈرون اڈے شامل تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ "یہ ایران کی جہازوں پر بمباری کا بدلہ ہے، اگر ایسا دوبارہ ہوا تو صورتحال مزید خراب ہو جائے گی!" ۔
ایران نے کویت اور بحرین کو کیوں نشانہ بنایا؟
امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی پاسداران انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ پاسداران انقلاب کے مطابق انہوں نے کویت کے علی السالم ایئر بیس اور بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ایران کی فوج نے قطر میں امریکی سیٹلائٹ اینٹینا اور بحرین میں ایندھن کے ذخیرے کو بھی نشانہ بنایا۔ بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے جبکہ کویت کی فضائی دفاعی افواج نے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ قطر نے بھی "ہائی سیکیورٹی الرٹ" جاری کیا۔
امریکہ ایران جنگ بندی کی موجودہ صورت حال کیا ہے؟
یہ حملے اس جنگ بندی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں جو سترہ جون کو پاکستان کی ثالثی میں طے پائی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ "میرے خیال سے جنگ بندی ختم ہو چکی ہے" ۔ ایران کے مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ "امریکہ نے ابھی تک یہ نہیں سیکھا کہ غنڈہ گردی اور وعدہ شکنی اب مفت نہیں ہے، اگر تم حملہ کرو گے تو جواب ملے گا!" ۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کے حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں اور ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر اقدام کرے گا۔
US strikes 'more than 80 targets' in Iran after three ships hit in Strait of Hormuzhttps://t.co/mrHU2hBzzk
— ITV News (@itvnews) July 8, 2026
کیا امریکہ اور ایران کے درمیان مکمل جنگ شروع ہو جائے گی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جھڑپیں جاری رہیں تو مکمل جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ کوئی بھی کارروائی بہت تیزی سے ختم ہو جائے گی، لیکن انہوں نے ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور نیٹو نے تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ مصر، سعودی عرب اور قطر نے ایران کے حملوں کو مذمت قرار دیا ہے۔
کیا امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کا کیا کردار ہے؟
پاکستان نے اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کیا تھا اور اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت جنگ بندی طے پائی تھی۔ تاہم حالیہ جھڑپوں نے اس معاہدے کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان نے دونوں فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ بندی پر عمل کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے پرعزم ہے اور وہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی جاری رکھے گا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: امریکہ نے ایران پر حملے کب کیے؟
جواب: امریکہ نے سات اور آٹھ جولائی دو ہزار چھبیس کو ایران پر دو روزہ حملے کیے، جس میں نوے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سوال: ایران نے کن ممالک کو نشانہ بنایا؟
جواب: ایران نے کویت، بحرین اور قطر میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
سوال: کیا جنگ بندی ختم ہو گئی ہے؟
جواب: ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے جبکہ ایران نے اسے سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سوال: اس تنازع میں کتنے افراد ہلاک ہوئے؟
جواب: ایران کی وزارت صحت کے مطابق امریکی حملوں میں چودہ افراد ہلاک اور اٹھتر زخمی ہوئے۔
سوال: کیا آبنائے ہرمز بند ہو جائے گا؟
جواب: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو وہ آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts