جوہری ایران کا خواب — کیا عالمی برادری محض تماشائی بن کر رہ جائے گی؟
ایران کا جوہری پروگرام اور عالمی تحفظات آج کے سب سے اہم عالمی مسائل میں شمار ہوتے ہیں۔ حالیہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی قرارداد نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ایران کے حکمران طبقے پر بھروسہ کرنا تاریخ کی سنگین غلطی ثابت ہو سکتی ہے ۔ درحقیقت، ایران وہی ریاست ہے جسے ماہرین "مافیا ریاست" کہتے ہیں — ایک ایسا نظام جو جبر، دھمکیوں، اور گفت و شنید کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی برادری ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر بھروسہ کر سکتی ہے؟ جواب نہیں ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی قرارداد اور ایران کا غیر تعاون
جون ۲۰۲۶ میں ویانا میں ہونے والے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ اجلاس میں فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے پیش کردہ قرارداد منظور کی گئی ۔ اس قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے جوہری مقامات تک معائنہ کاروں کو فوری رسائی فراہم کرے اور اپنے ۶۰ فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں مکمل معلومات دے ۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایران کے پاس فی الحال ۴۴۰.۹ کلوگرام یورینیم ہے جو ۶۰ فیصد تک افزودہ ہے — یہ وہ مقدار ہے جس سے کم از کم ۱۰ جوہری بم بنائے جا سکتے ہیں ۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے خبردار کیا کہ یہ مقدار تکنیکی طور پر ہتھیاروں کی سطح سے صرف ایک قدم دور ہے ۔
مافیا ریاست کی حکمت عملی
احمد شرائی، جو گیٹ اسٹون انسٹی ٹیوٹ میں شائع ہونے والے اصل مضمون کے مصنف ہیں، ایران کے حکمران طبقے کو "مافیا ریاست" قرار دیتے ہیں ۔ ان کے مطابق، تہران کے حکمران درج ذیل اصولوں پر کام کرتے ہیں:
اپنے نیٹ ورک کا تحفظ
مخالفین کو دھمکیاں دینا
پڑوسی ممالک کو خطرات میں ڈالنا
بدامنی کا استحصال کرنا
مذاکرات کو وقت خریدنے کا ہتھیار بنانا
یہی وجہ ہے کہ ایران ایک ساتھ کئی محاذوں پر بحران پیدا کرتا ہے — غزہ، لبنان، بحرین، عراق، اور آبنائے ہرمز میں — تاکہ عالمی توجہ اپنے جوہری عزائم سے ہٹا سکے ۔
Iran launches missile and drone attack on Kuwait.
— Sara | Journalist (@AyatollahAraafi) June 10, 2026
Wait for the night, for it is long for them. 🔥🔥🔥 pic.twitter.com/pBaqnP6xAa
جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا خطرہ
اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اس کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے :
پہلا: جوہری بلیک میل — ایران اسرائیل اور خلیجی ممالک کو جوہری دھمکیاں دے سکے گا۔
دوسرا: علاقائی ہتھیاروں کی دوڑ — سعودی عرب، ترکی، اور مصر بھی جوہری ہتھیار بنانے کی دوڑ میں شامل ہو جائیں گے۔
تیسرا: عالمی توانائی کی قیمتیں — خلیج میں عدم استحکام سے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔
چوتھا: امریکی اعتبار میں کمی — امریکہ کی دہائیوں پرانی پالیسی "ایران کو جوہری ہتھیار نہیں ملنے دیں گے" ناکام ہو جائے گی ۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مشرق وسطیٰ میں ایک خطرناک جوہری مسابقت شروع ہو جائے گی۔
تصدیق، روک تھام، اور اتحاد
احمد شرائی کے مطابق، ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کی بنیاد بھروسہ نہیں بلکہ تصدیق اور روک تھام ہونی چاہیے ۔ ان کا کہنا ہے:
"بھروسہ غیر ضروری ہے۔ تصدیق، روک تھام، اور خلاف ورزیوں کو سزا دینے کی قابلِ اعتماد طاقت ناگزیر ہے۔"
بین الاقوامی قانون کے بغیر نفاذ محض ایک اپیل ہے۔ بین الاقوامی قانون جب طاقت کے ساتھ نافذ کیا جائے تو وہ نظم ہے ۔
امریکی قیادت کے ساتھ، اسرائیل اور عرب شرکا کے تعاون سے، اور علاقائی دفاع کو مضبوط بنا کر ہی ایران کو واضح پیغام دیا جا سکتا ہے: جوہری ہتھیار کا راستہ یا تو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دو، یا پھر اقتصادی، سفارتی اور فوجی نتائج کا سامنا کرو۔
یاد رکھیں: ایرانی عوام دشمن نہیں ہیں۔ دشمن وہ تنگ نظر حکمران طبقہ ہے جس نے ان عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔
حوالہ: یہ تحریر گیٹ اسٹون انسٹی ٹیوٹ کی شائع کردہ اصل رپورٹ "نو ٹرسٹ، نو الیوژنز، نو نیوکلیئر ایران" سے ماخوذ ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکتا ہے؟
جی ہاں، مضبوط سفارتی دباؤ، مؤثر پابندیوں، اور فوجی روک تھام کے ذریعے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی حالیہ قرارداد اس سمت میں ایک اہم قدم ہے ۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی قرارداد میں ایران پر کیا پابندیاں عائد کی گئی ہیں؟
قرارداد میں ایران سے جوہری مقامات تک رسائی اور ۶۰ فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اگرچہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی سفارش نہیں کی گئی ۔
کیا ایران کا جوہری پروگرام مشرق وسطیٰ میں ہتھیاروں کی دوڑ کا سبب بنے گا؟
ماہرین کے مطابق، اگر ایران جوہری ہتھیار بنا لیتا ہے تو سعودی عرب، ترکی، اور مصر بھی جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔
ایران کے پاس کتنا افزودہ یورینیم ہے؟
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق، ایران کے پاس ۴۴۰.۹ کلوگرام یورینیم ہے جو ۶۰ فیصد تک افزودہ ہے — جو ۱۰ جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے ۔
کیا ایران یورینیم کی افزودگی بند کرنے پر راضی ہو سکتا ہے؟
ایران نے بارہا کہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بنیادی حقوق کو ترک نہیں کرے گا، لیکن بین الاقوامی دباؤ کے تحت سمجھوتہ ممکن ہے ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts