ایران کا یورپ کو ’جنگ‘ کی دھمکی — کیا سفارتی مشنز اب خطرہ بن چکے ہیں؟
مارچ ۲۰۲۶ میں ایران نے یورپی ممالک کو واضح انتباہ دے دی — اگر یورپ نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا تو اسے "جنگ کی کارروائی" تصور کیا جائے گا اور یورپی شہر نشانہ بن سکتے ہیں ۔ یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی جب یورپی یونین نے فروری ۲۰۲۶ میں آئی آر جی سی کو اپنی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران کے سفارتی مشنز اب یورپ کے لیے سلامتی کا خطرہ بن چکے ہیں؟
آئی آر جی سی کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد کیا بدلا؟
یورپی یونین کی طرف سے آئی آر جی سی کو بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد ایران نے اسے "بڑی اسٹریٹجک غلطی" قرار دیا ۔ کاجا کالس، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ نے کہا کہ "جبر کا جواب دیے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا" ۔ اس فیصلے کے نتیجے میں آئی آر جی سی کے اثاثے منجمد کر دیے گئے اور یورپی کمپنیوں کو اس گروپ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مالی لین دین پر پابندی لگا دی گئی ۔
کیا ایران کی دھمکیاں حقیقت پر مبنی ہیں؟
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ یورپ مشرق وسطیٰ کے سفارتی مستقبل میں اپنی موجودگی کھو چکا ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جے سی پی او اے کے "اسنیپ بیک" میکانزم کا غلط استعمال خطے میں کشیدگی کو ناقابل مرمت حد تک بڑھا سکتا ہے ۔ درحقیقت، ایران نے یہ بھی کہا کہ اگر یورپی ممالک "جارحین کا ساتھ دیتے ہیں" تو وہ خود کو ایران کے جوابی حملوں کا نشانہ بنائیں گے ۔
یورپی گھرانوں پر کیا بوجھ پڑے گا؟
یورپ کے لیے سب سے بڑا خطرہ معاشی ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر ۹۴ ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی جو پچھلے مہینے کے مقابلے میں ۳۴ فیصد زیادہ ہے ۔ قدرتی گیس کی قیمتیں بھی ۵۰ سے ۶۰ فیصد تک بڑھ گئی ہیں ۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق یورپ اب سٹیگ فلیشن — یعنی مہنگائی اور معاشی جمود کا مجموعہ — کی طرف بڑھ رہا ہے ۔
اسی تناظر میں یورپی کمیشن کی سربراہ ارسولا وون ڈیر لیین نے ہنگامی توانائی اجلاس بلایا جبکہ توانائی کمشنر آذربائیجان گئے تاکہ توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کیے جا سکیں ۔ قطر نے اپنی سب سے بڑی ایل این جی فیکٹری بند کر دی ہے جس سے یورپ کو شدید توانائی بحران کا سامنا ہے ۔
کیا یورپ اس بحران سے بچ سکتا ہے؟
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یورپ کو ۱۹۷۰ کی دہائی کے تیل کے بحران جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اگر ایک ماہ سے زیادہ رہی تو یورپ کو چین اور انڈیا سے درآمد شدہ مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
یہی وجہ ہے کہ بیلجیئم، اٹلی اور پولینڈ جیسے ممالک قطر پر سب سے زیادہ انحصار رکھتے ہیں اور انہیں سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا ۔
Diplomatic passports are not a free pass for IRGC operatives.If diplomacy is being used as a cover for infiltration, espionage, and intimidation, Europe has only one response:Expose them.Expel them.Defend our sovereignty. pic.twitter.com/WovtBbjIPX— Weronika Rogowska (@Rogowskawero) June 3, 2026
یورپ کو اب سخت فیصلے کرنے ہوں گے
یورپی یونین کے پاس دو راستے ہیں — یا تو وہ ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات جاری رکھے، جیسا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے برلن، پیرس اور لندن جانے کی پیشکش کی ہے ، یا پھر وہ اپنی سلامتی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ایران کے سفارتی مشنز پر سخت نگرانی، سفارت کاروں کی تعداد میں کمی، اور آئی آر جی سی سے منسلک افراد کو فوری طور پر نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا یورپی یونین نے آئی آر جی سی کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے؟
جی ہاں، ۱۹ فروری ۲۰۲۶ کو یورپی یونین کی کونسل نے آئی آر جی سی کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا، جس کے تحت اس کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں ۔
کیا ایران نے یورپ کو جنگ کی دھمکی دی ہے؟
جی ہاں، مارچ ۲۰۲۶ میں ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ اگر یورپی ممالک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شامل ہوئے تو یہ "جنگ کی کارروائی" تصور کی جائے گی ۔
یورپ میں توانائی کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
آبنائے ہرمز کی بندش اور قطر کی ایل این جی فیکٹری بند ہونے سے یورپ میں گیس کی قیمتیں ۵۰-۶۰ فیصد اور تیل کی قیمتیں ۳۴ فیصد تک بڑھ چکی ہیں ۔
کیا ایران اور یورپ کے درمیان مذاکرات ممکن ہیں؟
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برلن، پیرس اور لندن جانے کی پیشکش کی ہے، لیکن یورپی ممالک نے ابھی تک اس پر کوئی واضح ردعمل نہیں دیا ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts