سعودی عرب کا اعلان: “فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا



مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ سعودی عرب نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ موقف ان خبروں کے برعکس ہے کہ ریاض ابراہیم معاہدوں میں شامل ہو کر تل ابیب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والا ہے، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔

سعودی عرب نے ابراہیم معاہدے میں شمولیت سے کیوں انکار کیا؟

اس سوال کا جواب نسبتاً آسان ہے: مقامی عوام کا دباؤ اور فلسطینیوں سے ہمدردی۔ گزشتہ سال غزہ میں تباہی کے مناظر نے پوری مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ۔ سعودی عرب، جو حرمین شریفین کے متولی ہونے کی وجہ سے اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھے ہوئے ہے، نے سمجھ لیا کہ اس صورتحال میں نارملائزیشن اس کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگی۔ درحقیقت، ولی عہد محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ "مقدس مقامات کی حفاظت کرنے والی ریاست فلسطینیوں کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔"

فلسطینی ریاست: نارملائزیشن کے لیے نئی لازمی شرط

یہاں کلیدی فرق یہ ہے کہ پہلے یہ شرط سفارتی زبان میں کہی جاتی تھی، مگر اب یہ نارملائزیشن کی شرط بن چکی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق، ۱۹۶۷ کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے ۔ بغیر اس کے، اسرائیل کے ساتھ کوئی بھی تعلق نارمل نہیں ہو سکتا۔ یہ موقف عرب لیگ کے پرانے اصولوں کی یاد دلاتا ہے، مگر اب اسے زیادہ مؤثر طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے۔

خلیجی ممالک میں فلسطین کے مسئلے کی حمایت میں تبدیلی

خیال کیا جاتا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد سعودی عرب بھی نارملائزیشن کی راہ اپنائے گا، لیکن اب صورتحال الٹ گئی ہے۔ نہ صرف سعودی عرب بلکہ دیگر خلیجی ممالک میں بھی فلسطینیوں کی حمایت میں عوامی سطح پر آواز اٹھ رہی ہے۔ یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ یہ ثابت کرتی ہے کہ "عرب عوام" اب بھی "فلسطین" کو اپنا مرکزی مسئلہ سمجھتے ہیں۔

سعودی عرب کے اسرائیل موقف کا پاکستان پر اثر

پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ سعودی فیصلے کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ اب جبکہ ریاض نے خود یہ قدم اٹھانے سے انکار کر دیا ہے، اسلام آباد پر بھی دباؤ کم ہو گیا ہے ۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ ابراہیم معاہدوں کا حصہ نہیں بنے گا اور صرف فلسطینی ریاست کے قیام کے بعد ہی اس حوالے سے کوئی پیش رفت ممکن ہوگی۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: کیا سعودی عرب نے کبھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا وعدہ کیا تھا؟
جی نہیں، سعودی عرب نے واضح کیا کہ تسلیم کرنے کی کوئی ممکنہ تاریخ طے نہیں کی گئی تھی، بلکہ یہ مستقبل میں کسی معاہدے کی ممکنہ شرط تھی جو اب غزہ جنگ کے بعد ختم ہو چکی ہے۔

سوال: ابراہیم معاہدوں کا اب کیا بنے گا؟
ابراہیم معاہدے بظاہر اپنی اہمیت کھو رہے ہیں۔ اگر خطے کی سب سے بڑی عرب طاقت (سعودی عرب) اس میں شامل نہیں ہے، تو یہ معاہدے صرف معمولی اقتصادی تعاون تک محدود رہ جائیں گے۔

سوال: سعودی عرب کا نیا مؤقف ایران کے ساتھ تعلقات کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
یہ سعودی عرب کو ایران کے مقابلے میں ایک مضبوط سفارتی پوزیشن دیتا ہے۔ وہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ صرف مغرب کے دباؤ میں فیصلے نہیں کرتا، بلکہ علاقائی امن کے لیے فلسطینیوں کے حقوق کو اولین ترجیح دیتا ہے۔

سوال: کیا دو ریاستی حل اب بھی ممکن ہے؟
ماہرین کے مطابق، یہ واحد حل ہے جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان سمیت بیشتر ممالک کا اصرار ہے کہ دو ریاستی حل کے بغیر خطے میں مستقل امن قائم نہیں ہو سکتا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

یو اے ای کی خاموش سفارت کاری نے کس طرح ایک امریکی کو افغانستان سے گھر پہنچایا