سکیورٹی ذرائع کے مطابق کرّم ایجنسی میں بھی


 سکیورٹی ذرائع کے مطابق کرّم ایجنسی میں بھی افغان فورسز کی ایک اور چوکی تباہ کر دی گئی جبکہ پاکستانی فورسز نے افغان جنڈوسر پوسٹ بھی تباہ کر دی۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مؤثر فائر سے لیو بند،قلعہ عبداللہ سیکٹر میں افغانی پوسٹ مکمل تباہ کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کنڑ میں بھی افغان پوسٹ تباہ کی گئی جس کے بعد افغان فوجی پوسٹ پر لاشیں چھوڑ کے بھاگ گئے۔ علاوہ ازیں سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نےطالبان فورسز کے درانی کیمپ پر کامیاب اسٹرائیک کی اور کیمپ مکمل تباہ کر دیا، درجنوں طالبان اور خارجیوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کاکہنا ہے کہ پاکستان نے طالبان فورسز کے درانی کیمپ 2 پرکامیاب اسٹرائیک کی، اورکیمپ مکمل تباہ کر دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق درانی کیمپ 2 میں 50 سے زائد طالبان اور خارجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں،درانی کیمپ 2 خارجیوں کی پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے مرکزی لانچ پیڈ کا کام کرتا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کاکہنا ہے کہ پاکستان نے طالبان فورسز کے غزنالی ہیڈ کوارٹرز نوشکی سیکٹر کو نشانہ بناکر تباہ کر دیا جس کے نتیجے میں درجنوں طالبان اور خارجیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ چاغی میں بھی پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغان دہشت گردوں پر وار کیے جس میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ کئی چیک پوسٹیں تباہ بھی ہوگئیں۔ زیرِ قبضہ پوسٹوں پر آگ اور تباہی کے واضح مناظر دیکھے جا سکتے ہیں، جبکہ متعدد افغان طالبان اور سیکیورٹی اہلکار پوسٹیں خالی چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں۔ پاکستان فوج کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان کے منوجبا کیمپ 3 کو بھی مکمل تباہ کر دیا گیا، سکیورٹی ذرائع کے مطابق ویڈیو میں افغان طالبان کے منوجبا کیمپ 3 کی انگیجمنٹ اور اسٹرائیک کے بعد مکمل تباہی دیکھی جا سکتی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان فوج کی جوابی کاروائی میں سپین بولدک سیکٹر ، افغانستان میں واقع افغان طالبان کے عصمت اللہ کرار کیمپ کو دوسری اسٹرائیک میں مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، یہ کیمپ افغان طالبان کے سب سے بڑے کیمپس میں سے ایک تھا جہاں سے پاکستان مخالف کارروائیاں عمل میں لائی جاتی تھی ۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ویڈیو میں افغان طالبان کے عصمت اللہ کرار کیمپ کی دوسری انگیجمنٹ اور اسٹرائیک کے بعد مکمل تباہی دیکھی جا سکتی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق متعدد افغان طالبان کی چوکیوں اور خارجیوں کی تشکیلوں کو بھی بھاری نقصانات پہنچا جبکہ قائمقام افغان حکومت کی سر پرستی میں چلنے والے خوارج اور داعش کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان کی جانب سے آرٹلری، ٹینکوں، ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، اسکے علاوہ داعش اور خوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لئے فضائی وسائل اور ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

یو اے ای کی خاموش سفارت کاری نے کس طرح ایک امریکی کو افغانستان سے گھر پہنچایا