سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ ججز


 سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ ججز ٹرانسفر سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،فیصلے میں جسٹس صلاح الدین پنہور کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تبادلے کے بعد جج کو نئے جج کے طور پر نہیں لیا جا سکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے تبادلوں کیخلاف درخواست واپس لی،ہائیکورٹ بار نے تسلیم کیا یہ مفاد عامہ کی خلاف ورزی نہیں،


سپریم کورٹ نے کہاکہ ٹرانسفر کے نوٹیفکیشن میں واضح نہیں تھا کہ تبادلہ عارضی ہے یا مستقل،نوٹیفکیشن میں وضاحت کیلئے معاملہ دوبارہ بھیجا کیا گیا،ججز تبادلوں پر مشاورت عدلیہ سے ہی کی جاتی ہے،تبادلوں سے عدلیہ کی آزادی متاثر نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ آرٹیکل 200 صدر مملکت کو ہائیکورٹ کے جج کا دوسری ہائیکورٹ ٹرانسفر کا اختیار دیتا ہے،جج ٹرانسفر کا اختیار اپنی نوعیت میں آزادانہ ہے،تاہم ٹرانسفر کیساتھ کچھ حفاظتی اقدامات اور ضمانتیں بھی شامل ہیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اختیارات آئین کے کسی اور آرٹیکل پر منحصر نہیں ہیں،ٹرانسفر کی بنیادی شرط متعلقہ جج کی رضامندی لینا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ دوسرا اہم پہلو مشاورت کا عمل ہے،مشاورت کے عمل میں صدر مملکت چیف جسٹس پاکستان اور دونوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان شامل ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

یو اے ای کی خاموش سفارت کاری نے کس طرح ایک امریکی کو افغانستان سے گھر پہنچایا