پاکستان کی پہلی بین الاقوامی فیری سروس کی منظوری


 

پاکستان کی پہلی بین الاقوامی فیری سروس کی منظوری – ایک تاریخی سنگِ میل

 وزارتِ بحری امور نے ایک تاریخی اقدام کے تحت پہلی بار بین الاقوامی فیری آپریٹر "سی کیپرز" کو پاکستان سے ایران اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات (UAE) کے لیے فیری سروس چلانے کا لائسنس جاری کر دیا ہے۔

علاقائی رابطوں کے فروغ کی جانب ایک نیا قدم

یہ منظوری ایک اعلیٰ سطحی لائسنسنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد دی گئی، جس میں وزارتِ دفاع، خارجہ، داخلہ، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اور پورٹ اینڈ شپنگ اتھارٹیز کے نمائندگان نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور، محمد جنید انور چوہدری نے اس فیصلے کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کے وژن اور قومی میری ٹائم پالیسی کے عین مطابق قرار دیا۔

اقتصادی سرگرمیوں اور مذہبی سیاحت میں اضافہ

یہ فیری سروس نہ صرف پاکستان کے سمندری راستوں کو فعال بنائے گی بلکہ ایران اور عراق جانے والے زائرین، خلیجی ممالک میں مقیم محنت کشوں اور سیاحوں کے لیے سستا اور آسان ذریعہ سفر فراہم کرے گی۔
وزیر کے مطابق، یہ سروس فضائی سفر کے مقابلے میں کم لاگت ہوگی اور زمینی راستوں پر بوجھ کم کرے گی۔

ابتدائی سروس اور جدید سہولیات

فیری آپریشنز کا آغاز کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے کیا جائے گا، جہاں سے جدید فیری جہاز روانہ ہوں گے۔ ان جہازوں میں تمام بنیادی سہولیات میسر ہوں گی تاکہ مسافروں کا سفر محفوظ، آرام دہ اور سستا ہو۔

گوادر سے UAE کے لیے ممکنہ کرایہ

اگرچہ سرکاری طور پر کرایوں کا اعلان نہیں کیا گیا، مگر ایک معروف یوٹیوب چینل کے مطابق گوادر سے متحدہ عرب امارات (UAE) کے لیے ایک طرفہ کرایہ تقریباً 20,000 روپے متوقع ہے۔

پاکستان کے نیلے معیشت (Blue Economy) کے وژن کی تکمیل

یہ اقدام پاکستان کی نیلی معیشت کے فروغ، تجارتی لاجسٹکس کی بہتری، اور سمندری سیاحت کو فروغ دینے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس سے پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط سمندری روابط کے مرکز کے طور پر ابھرنے میں مدد ملے گی۔

اختتامیہ

بین الاقوامی فیری سروس کا آغاز پاکستان کے لیے ایک نیا باب ہے جو سفری سہولیات میں بہتری، مذہبی سیاحت، سمندری تجارت اور علاقائی روابط کو نئی جہت فراہم کرے گا۔ عوام اور خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے یہ ایک خوش آئند اور طویل انتظار کا خاتمہ ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

یو اے ای کی خاموش سفارت کاری نے کس طرح ایک امریکی کو افغانستان سے گھر پہنچایا