قازقستان کی پاکستان کو سنٹرل ایشیا تک نئی تجارتی راہداریوں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کی پیشکش
قازقستان کی پاکستان کو سنٹرل ایشیا تک نئی تجارتی راہداریوں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کی پیشکش
اسلام آباد، 10 اگست — قازقستان کے سفیر برائے پاکستان، عزت مآب یرزھان کیستافن (Yerzhan Kistafin) نے کہا ہے کہ ان کا ملک چین کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک نئی تجارتی راہداریوں کی تعمیر کے لیے مکمل سرمایہ کاری فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ منصوبہ موجودہ مشکل زمینی راستوں کے متبادل کے طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے، تاکہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان دو طرفہ و علاقائی تجارت کو فروغ حاصل ہو۔
یہ بات انہوں نے ہفتہ کے روز وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات کے دوران کہی۔ پریس ریلیز کے مطابق، قازقستان کے صدر رواں سال نومبر کے پہلے ہفتے میں پاکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں پیش رفت کا باعث بنے گا۔
نئی تجارتی راہداریوں کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کا قیام
سفیر یرزھان کیستافن نے بتایا کہ قازقستان پاکستان کے ساتھ تجارت کو وسعت دینے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دورے سے قبل "کمرس" (Commerce) اور "ٹرانسپورٹ" (Transport) کے شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، تاکہ دونوں ممالک باہمی تعاون سے نئی راہیں نکال سکیں۔
موجودہ تجارتی راستوں میں بہتری کی تجویز
سفیر نے موجودہ تجارتی راستے "کاشغر تا ترکمانستان و قازقستان" کا ذکر کیا اور اس میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کراچی سے چمن اور قندھار کے ذریعے قازقستان تک ایک نیا اور مؤثر تجارتی روٹ بنانے کی تجویز بھی دی، جو پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی ریاستوں سے تجارت کے مواقع کو بڑھا سکتا ہے۔
پاکستان کی مکمل حمایت
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے قازقستانی سفیر کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے چین، افغانستان اور ایران کے ذریعے نئی تجارتی راہداریوں کے قیام پر سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک ایسی بین الاقوامی سڑکوں کی نیٹ ورک بنانا چاہتا ہے جیسا کہ "شاہراہِ قراقرم" ہے، تاکہ خطے میں زمینی تجارت کو فروغ ملے۔
علاقائی تعاون اور NLC سے متعلق معاملات
ملاقات میں نیشنل لاجسٹک سیل (NLC) کے ساتھ زیر التواء تجارتی معاہدوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر وفاقی سیکریٹری برائے مواصلات علی شیر محسود بھی موجود تھے۔
کلیدی الفاظ:
-
پاکستان قازقستان تجارتی تعلقات
-
وسطی ایشیائی ریاستوں تک تجارتی راہداری
-
قازقستان صدر کا دورہ پاکستان
-
چین کے ذریعے سنٹرل ایشیا روٹ
-
کراچی چمن قندھار تجارتی راستہ
-
پاکستان علاقائی تجارت
خلاصہ:
قازقستان کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی سرمایہ کاری کی پیشکش اور نومبر میں متوقع صدارتی دورہ دونوں ممالک کے لیے ایک تاریخی موقع ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ مجوزہ تجارتی راہداریوں کا منصوبہ عملی جامہ پہن لیتا ہے، تو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی معیشت کو ایک نیا راستہ ملے گا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts