اکستان اور ویتنام کے درمیان تجارتی تعلقات میں پیش رفت:
اکستان اور ویتنام کے درمیان تجارتی تعلقات میں پیش رفت: پی ٹی اے کے بعد ایف ٹی اے کی راہ ہموار
پاکستان اور ویتنام کے درمیان دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے ترجیحی تجارتی معاہدہ (PTA) کو حتمی شکل دینے کے بعد مستقبل میں جامع آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) کی طرف بڑھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ویتنام میں تعینات پاکستانی سفیر نے ایک انٹرویو میں "ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP)" کو بتایا کہ پاکستان-ویتنام مشترکہ تجارتی کمیٹی (JTC) کا پانچواں اجلاس 11 جولائی 2025 کو ہنوئی میں منعقد ہوا، جو کہ دو طرفہ تعلقات کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
ویتنام کی جانب سے پی ٹی اے کا مسودہ جمع
سفیر کے مطابق، ویتنام نے 8 جولائی 2025 کو پاکستان کو ترجیحی تجارتی معاہدے کا باضابطہ مسودہ پیش کیا، جس میں 80 سے زائد اہم برآمدی اشیاء کی فہرست شامل ہے۔ ویتنام نے ان اشیاء پر پاکستانی درآمدی ڈیوٹی کو 0 سے 5 فیصد تک لانے کی درخواست کی ہے۔ پاکستان نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور 2025 کے دوران مسودے پر غور اور مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
JTC کا دوبارہ فعال ہونا ایک اسٹریٹجک قدم
سفیر نے مزید کہا کہ مشترکہ تجارتی کمیٹی (JTC) کا آٹھ سال بعد دوبارہ فعال ہونا دوطرفہ تعلقات میں اسٹریٹجک تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ فورم دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکرات، تعاون، اور تجارتی حکمت عملیوں کو فروغ دینے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
پاکستان-ویتنام تجارتی تعلقات: ایک روشن مستقبل
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی اے پر کامیاب مذاکرات مکمل ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف دونوں معیشتوں کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ خطے میں تجارتی استحکام اور اقتصادی تعاون کو بھی فروغ دے گا۔ ایف ٹی اے کی راہ ہموار ہونے سے دوطرفہ تجارت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts