کرس ووکس کی وضاحت: "کنگ بابر" تبصرہ صرف مذاق تھا،
کرس ووکس کی وضاحت: "کنگ بابر" تبصرہ صرف مذاق تھا، پاکستانی فینز نے غلط مطلب لیا
انگلش کرکٹر کرس ووکس نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں پاکستانی کرکٹر بابر اعظم پر کیے گئے تبصرے کی وضاحت کر دی ہے۔ ووکس نے کہا کہ سوشل میڈیا پر "کنگ بابر" لکھنا صرف ایک دوستانہ مذاق تھا جسے پاکستانی فینز نے غلط انداز میں لیا۔
"کنگ بابر" صرف ایک انسٹاگرام مذاق تھا – کرس ووکس
کرس ووکس کے مطابق، وہ جنوبی افریقی لیگ میں ویان ملڈر کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ ملڈر کی ایک انسٹاگرام پوسٹ پر ووکس نے "کنگ بابر" لکھا، جسے پاکستانی شائقین نے سنجیدگی سے لے لیا اور ووکس کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
انہوں نے بتایا:
"ویان ملڈر کی انسٹاگرام پوسٹ پر 'کنگ بابر' لکھنا صرف مذاق تھا۔ پاکستانی فینز ملڈر کو بار بار یہ لقب لکھ کر تنگ کر رہے تھے، تو ہم دوستوں نے بھی ہنسی مذاق میں یہی کہا۔"
پاکستانی فینز کی جذباتی ردعمل
ووکس نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا تبصرہ بابر اعظم کی تضحیک نہیں تھا بلکہ یہ دوستی اور مزاح کے جذبے کے تحت کیا گیا۔ ان کے بقول:
"بابر اعظم سے متعلق کمنٹ صرف ہنسی مذاق تھا، لیکن پاکستانی فینز نے اسے سنجیدگی سے لیا اور مجھے سوشل میڈیا پر نشانے پر رکھ لیا۔"
انہوں نے پاکستانی فینز کو جذباتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اکثر لوگ سادہ مذاق کو بھی غلط انداز میں سمجھتے ہیں۔
بابر اعظم کا مقام اپنی جگہ
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بابر اعظم کو دنیا بھر میں ایک عمدہ بلے باز اور پاکستانی کرکٹ کا فخر سمجھا جاتا ہے۔ "کنگ بابر" کا لقب پاکستانی عوام کی محبت اور احترام کا اظہار ہے۔ تاہم، جب بین الاقوامی کرکٹرز مذاق میں یہی الفاظ استعمال کریں تو اس کا مطلب ہمیشہ تنقید نہیں ہوتا۔
نتیجہ:
کرس ووکس کی حالیہ وضاحت سے واضح ہو گیا ہے کہ ان کا تبصرہ بابر اعظم کی توہین نہیں بلکہ محض ایک دوستانہ مذاق تھا۔ پاکستانی شائقین کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر ردعمل دینے سے قبل سیاق و سباق کو مدنظر رکھیں تاکہ ایسے غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts