پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کا بڑا فیصلہ:


 

پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کا بڑا فیصلہ: ایئرکارگو چارجز میں 100 گنا اضافہ

📅 2 جولائی 2025 | ✍️ رپورٹ: 24 نیوز ڈیسک

پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے ایوی ایشن سیکٹر سے متعلق ایک بڑا اور حیران کن فیصلہ کرتے ہوئے ایئرکارگو چارجز میں 100 گنا تک اضافہ کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پانچ سال بعد کیا گیا ہے اور اس کا مقصد ریونیو میں اضافہ اور ایئرپورٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ہے۔

چارجز میں نمایاں تبدیلیاں

ایئرپورٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق:

  • 🐦 پالتو پرندے ساتھ لے جانے کی فیس میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

  • 🐕 بلی، کتے اور دیگر پالتو جانوروں کے لیے کارگو چارجز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

  • 🌿 پان کے پتے اور دیگر جنرل کارگو پر بھی نئی شرحیں نافذ العمل ہیں۔

  • 📦 جنرل کارگو چارجز میں 100 گنا اضافہ نے کاروباری طبقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

📊 کارگو چارجز میں اضافہ: وجوہات

پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق یہ فیصلہ پانچ سال بعد کیا گیا ہے۔ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ:

  • مہنگائی اور آپریٹنگ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

  • ایئرپورٹ کی سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے۔

  • خطے میں موجود دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کے کارگو نرخ غیرمعمولی طور پر کم تھے۔

💬 عوام اور تاجروں کا ردعمل

تاجر برادری اور ٹریول ایجنٹس نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:

"ایئرکارگو چارجز میں 100 گنا اضافہ کاروبار کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، اور اس سے ایکسپورٹس کو دھچکہ لگے گا۔"

📉 معاشی اثرات

ایئرکارگو چارجز میں اس بڑے اضافے کا امکان ہے کہ:

  • چھوٹے کاروبار متاثر ہوں گے۔

  • ایئر فریٹ کے ذریعے اشیاء برآمد کرنے والے تاجروں کو نقصان پہنچے گا۔

  • صارفین کو مہنگی مصنوعات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

🔍 نتیجہ

پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کا یہ فیصلہ مختصر مدتی ریونیو میں اضافہ لا سکتا ہے، تاہم طویل مدتی اثرات کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ تاجر برادری کے تحفظات کو سنیں اور ایک متوازن پالیسی پر غور کریں۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

یو اے ای کی خاموش سفارت کاری نے کس طرح ایک امریکی کو افغانستان سے گھر پہنچایا