وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ متحدہ عرب امارات:


 

  وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ متحدہ عرب امارات: 

ابوظہبی، 11 جولائی – وفاقی وزیر داخلہ پاکستان محسن نقوی نے متحدہ عرب امارات (UAE) کا سرکاری دورہ کیا، جہاں انہوں نے امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی، انسداد منشیات، اور امیگریشن کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا تھا۔

شاندار استقبال اور گارڈ آف آنر

محسن نقوی کو وزارت داخلہ امارات پہنچنے پر پرجوش استقبال دیا گیا اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ ملاقات کے دوران انہیں اعلیٰ اماراتی حکام سے متعارف کرایا گیا اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی، خاص طور پر پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا سہولیات میں آسانی اور ورک ویزا کے حصول کو آسان بنانے پر زور دیا گیا۔

ویزا پالیسی میں نرمی کی یقین دہانی

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اماراتی قیادت پر زور دیا کہ ویزا پالیسی میں نرمی پاکستانیوں کے لیے باعثِ راحت ہو گی۔ ان کا کہنا تھا:
"ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی شہری آسانی سے متحدہ عرب امارات آئیں۔ ویزا پالیسی میں نرمی بہت بڑا ریلیف ہو گا۔"
جس پر شیخ سیف بن زاید النہیان نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

جدید پولیسنگ اور ٹیکنالوجی کا مشاہدہ

وزیر داخلہ نے ابوظہبی پولیس کے جدید آپریشنز سینٹر کا دورہ بھی کیا، جہاں انہیں جدید نگرانی اور جرائم کی روک تھام کے نظام پر بریفنگ دی گئی۔ محسن نقوی نے امارات کے سیکیورٹی نظام کو سراہا اور پاکستان میں بھی ایسی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے میں دلچسپی ظاہر کی۔

اہم ملاقاتیں اور مستقبل کا تعاون

دورے کے دوران جن اہم شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں میجر جنرل سالم علی الشامسی، میجر جنرل شیخ محمد بن تہنون النہیان، بریگیڈیئر انجینئر حسین احمد، بریگیڈیئر سعید عبداللہ السویدی، اور پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی شامل تھے۔

پاکستان-یو اے ای تعلقات: ایک قومی سرمایہ

دورے کے اختتام پر محسن نقوی نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے برادرانہ تعلقات کو ایک "قومی سرمایہ" قرار دیا اور سیکیورٹی، انسداد اسمگلنگ، اور عوامی فلاح کے دیگر شعبوں میں مزید تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

یو اے ای کی خاموش سفارت کاری نے کس طرح ایک امریکی کو افغانستان سے گھر پہنچایا