متحدہ عرب امارات کی واٹر سیکیورٹی اسٹریٹجی 2036: پائیدار پانی کی فراہمی کی جانب مؤثر قدم
متحدہ عرب امارات کی واٹر سیکیورٹی اسٹریٹجی 2036: پائیدار پانی کی فراہمی کی جانب مؤثر قدم
متحدہ عرب امارات (UAE) میں پانی کے قدرتی ذرائع کی محدودیت کے باوجود حکومت ایک جامع اور پائیدار پالیسی کے تحت پانی کی دستیابی کو یقینی بنا رہی ہے۔ واٹر سیکیورٹی اسٹریٹجی 2036 اس سلسلے میں ایک تاریخی قدم ہے جو نہ صرف روزمرہ حالات بلکہ ہنگامی صورتحال میں بھی پانی کی مسلسل فراہمی کو ممکن بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
پانی کے تحفظ کے لیے جامع قومی حکمت عملی
یہ اسٹریٹجی ایک جامع قومی نقطۂ نظر سے تیار کی گئی ہے جس میں پانی کی سپلائی چین کے تمام عناصر شامل کیے گئے ہیں۔ مختلف وفاقی اور مقامی اداروں کی شرکت سے یہ حکمت عملی اس قابل ہوئی ہے کہ وہ ملک بھر میں پانی کے ہر شعبے کو بہتر انداز میں کور کرے۔
واٹر سیکیورٹی اسٹریٹجی کے اہم اہداف
-
پانی کے کل استعمال میں 21 فیصد کمی
واٹر مینجمنٹ کو بہتر بنا کر پانی کے وسائل پر بوجھ کم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے تاکہ مستقبل میں پانی کی کمی سے بچا جا سکے۔ -
پانی کی پیداوار کی شرح کو 110 امریکی ڈالر فی مکعب میٹر تک بڑھانا
یہ اقدام پانی کو زیادہ مؤثر اور پائیدار طریقے سے استعمال کرنے کی طرف ایک مضبوط قدم ہے۔ -
پانی کی کمی کا حل اور مؤثر استعمال
تمام شعبوں میں پانی کے استعمال کی کارکردگی بہتر بنانا اور پانی کی کمی کو تین درجات تک کم کرنا اسٹریٹجی کے نمایاں اہداف میں شامل ہے۔ -
پانی کے معیار کو بہتر بنانا
آلودگی، خطرناک کیمیکلز اور مواد کے اخراج کو کم کرتے ہوئے، ٹریٹڈ واٹر کے ری سائیکلنگ کی شرح کو 95 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ -
پینے کے پانی تک سب کی رسائی ممکن بنانا
قومی سطح پر پانی کے ذخائر میں اضافہ کر کے تمام افراد کو صاف اور سستا پینے کا پانی فراہم کرنا ممکن بنایا جائے گا۔
ڈی سیلینیشن اور جدید ٹیکنالوجی کا کردار
متحدہ عرب امارات پہلے ہی دنیا میں ڈی سیلینیشن (نمکین پانی کو میٹھا بنانے) کی قیادت کر رہا ہے۔ 70 سے زائد بڑے ڈی سیلینیشن پلانٹس، جو ملک کے 42 فیصد پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرتے ہیں، واٹر سیکیورٹی کے وژن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ شمسی توانائی سے چلنے والے پلانٹس جیسے کہ حسن پلانٹ، اس شعبے میں پائیداری اور توانائی کی بچت کو فروغ دے رہے ہیں۔
نتیجہ
واٹر سیکیورٹی اسٹریٹجی 2036 نہ صرف متحدہ عرب امارات کے شہریوں کے لیے محفوظ پانی کی فراہمی کی ضمانت ہے، بلکہ یہ پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کی عالمی کوششوں میں بھی ایک نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ اگر یہ حکمت عملی کامیابی سے نافذ ہو جاتی ہے، تو یہ دیگر ممالک کے لیے بھی ایک قابل تقلید ماڈل بن سکتی ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts