ایران کے مسلسل میزائل حملے:


 

ایران کے مسلسل میزائل حملے: اسرائیلی شہری زیر زمین پناہ گاہوں میں مستقل سکونت پر مجبور

ایران کی جانب سے مسلسل میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے شہریوں نے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے زیر زمین پناہ گاہوں میں مستقل رہائش اختیار کر لی ہے۔ 13 جون 2025 کے بعد سے ایران کی جانب سے کی جانے والی جارحانہ کارروائیوں نے خطے میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

زیر زمین پناہ گاہوں میں زندگی

اسرائیلی حکومت کی جانب سے تل ابیب سمیت دیگر بڑے شہروں میں بنائی گئی زیر زمین شیلٹرز اب محض وقتی پناہ گاہیں نہیں رہیں بلکہ شہریوں نے انہیں اپنے مستقل گھروں میں بدل دیا ہے۔ ان شیلٹرز میں شہری اپنے بچوں اور پالتو جانوروں سمیت منتقل ہو چکے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے سے محفوظ رہ سکیں۔

حکومت نے زیر زمین میٹرو اسٹیشنز اور بس اسٹاپس کو بھی عارضی شیلٹرز کے طور پر استعمال میں لایا ہے۔

26 لاکھ اسرائیلی شیلٹرز سے محروم

اگرچہ اسرائیل نے اربوں ڈالر خرچ کر کے ایئر ڈیفینس سسٹم اور زیر زمین نیٹ ورک قائم کیا ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق 26 لاکھ سے زائد اسرائیلی شہری اب بھی محفوظ پناہ گاہوں تک رسائی سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے ان کی سلامتی خطرے میں ہے۔

فلسطینی نژاد شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک

بین الاقوامی میڈیا ادارے الجزیرہ کے مطابق، فلسطینی نژاد اسرائیلی شہریوں کو ان زیر زمین پناہ گاہوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ لاکھوں فلسطینی نژاد شہری اسرائیل میں یہودیوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں، لیکن ایرانی حملوں کے بعد جب یہودیوں کو شیلٹرز تک رسائی دی جا رہی ہے، تو فلسطینیوں کو باہر رکھا جا رہا ہے۔

یہ عمل نسلی امتیاز کی ایک واضح مثال کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جس پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی

اسرائیلی حکومت کی دفاعی حکمت عملی میں ایک جانب آئرن ڈوم جیسے جدید ایئر ڈیفینس سسٹمز پر انحصار کیا گیا ہے، تو دوسری جانب شہریوں کے تحفظ کے لیے زیر زمین شیلٹرز کی تعمیر پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ مگر زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل کو ابھی مزید ہزاروں پناہ گاہوں کی ضرورت ہے تاکہ ہر شہری کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

یو اے ای کی خاموش سفارت کاری نے کس طرح ایک امریکی کو افغانستان سے گھر پہنچایا