آئندہ مالی سال کے لیے شرحِ نمو کا ہدف 4.2 فیصد مقرر، مختلف شعبوں کے اہداف کا اعلان


 

آئندہ مالی سال کے لیے شرحِ نمو کا ہدف 4.2 فیصد مقرر، مختلف شعبوں کے اہداف کا اعلان

حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی سمت متعین کرتے ہوئے مختلف شعبوں کے اہداف کا اعلان کر دیا ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-2024 کے لیے مجموعی معاشی شرحِ نمو (GDP Growth) کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

زرعی شعبہ

زرعی شعبے کو معیشت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کے لیے 4.5 فیصد شرحِ نمو کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اہم فصلوں کی پیداوار کا ہدف 6.7 فیصد، دیگر فصلوں کا 3.5 فیصد، کاٹن جننگ 7 فیصد، لائیو اسٹاک 4.2 فیصد اور جنگلات کی ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تجویز کیا گیا ہے۔ فشنگ سیکٹر کے لیے 3 فیصد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

صنعتی شعبہ

صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے صنعتی شعبے کا مجموعی ہدف 4.3 فیصد رکھا گیا ہے۔ مینوفیکچرنگ شعبہ 4.7 فیصد، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ 3.5 فیصد، اسمال اسکیل انڈسٹریز 8.9 فیصد جبکہ سلاٹرنگ کے شعبے کا ہدف 4.3 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

خدمات کا شعبہ

خدمات کے شعبے کے لیے 4 فیصد کی شرح نمو کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے تحت بجلی، گیس اور واٹر سپلائی کے لیے 3.5 فیصد، تعمیرات کے لیے 3.8 فیصد، ہول سیل و ریٹیل ٹریڈ کے لیے 3.9 فیصد، ٹرانسپورٹ، اسٹوریج و کمیونیکیشن کے لیے 3.4 فیصد، انفارمیشن و کمیونیکیشن کے لیے 5 فیصد جبکہ مالیاتی و انشورنس سرگرمیوں کے لیے 5 فیصد کا ہدف رکھا گیا ہے۔

سرمایہ کاری و بچت

نئے مالی سال میں مجموعی سرمایہ کاری کا ہدف 14.7 فیصد تجویز کیا گیا ہے، جس میں فکسڈ انویسٹمنٹ کے لیے 13 فیصد، پبلک (بشمول جنرل گورنمنٹ) انویسٹمنٹ کے لیے 3.2 فیصد اور پرائیویٹ انویسٹمنٹ کے لیے 9.8 فیصد کا ہدف رکھا گیا ہے۔

قومی بچت (نیشنل سیونگز) کا ہدف 14.3 فیصد مقرر کیا گیا ہے تاکہ معیشت میں مالی استحکام اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مہنگائی کا ہدف

عوامی ریلیف کے تناظر میں حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے سالانہ اوسط مہنگائی کا ہدف 7.5 فیصد مقرر کیا ہے۔

بجٹ کا مجموعی حجم

بجٹ دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-2024 کے لیے بجٹ کا مجموعی حجم 17 ہزار 600 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔


نتیجہ:

حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے اہداف معیشت کے تمام بڑے شعبوں کو شامل کرتے ہیں۔ ان اہداف کی تکمیل کے لیے مؤثر پالیسی سازی، ادارہ جاتی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کی ضرورت ہو گی تاکہ ملکی معیشت مستحکم اور مستحکم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

یو اے ای کی خاموش سفارت کاری نے کس طرح ایک امریکی کو افغانستان سے گھر پہنچایا