ایران اسرائیل جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس میں


 

ایران اسرائیل جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس میں 5878 پوائنٹس کا بڑا اضافہ

کمشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں بہتری آنے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کا آغاز شاندار تیزی کے ساتھ ہوا۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں اعتماد بحال ہوا ہے، جس کے باعث 100 انڈیکس میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا۔ ابتدائی چند گھنٹوں میں ہی 100 انڈیکس میں 5878 پوائنٹس کا زبردست اضافہ دیکھا گیا، جس سے انڈیکس کی سطح 122045 پوائنٹس تک جا پہنچی۔ یہ اضافہ اتنا غیرمعمولی تھا کہ کاروبار کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔

گزشتہ روز ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں مندی کا رجحان رہا، اور انڈیکس 3855 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 116167 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

جنگ بندی کا پس منظر

منگل کی صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کیا۔ ٹرمپ کے مطابق دونوں ممالک نے جنگ بندی کی شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ پاکستانی وقت کے مطابق صبح 9 بجے ایران نے جنگ بندی کا آغاز کیا، جبکہ اسرائیل نے بھی اپنی فضائی حدود کھول دی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے دونوں فریقین سے اپیل کی ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی سے گریز کیا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی

معاشی استحکام کے آثار صرف اسٹاک مارکیٹ تک محدود نہیں رہے، بلکہ انٹر بینک مارکیٹ میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ آج کاروبار کے دوران امریکی ڈالر کی قیمت میں 13 پیسے کمی واقع ہوئی، جس کے بعد ڈالر 283 روپے 75 پیسے پر آ گیا۔ گزشتہ روز یہی ڈالر 283 روپے 87 پیسے پر بند ہوا تھا۔ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 285 روپے 6 پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔

نتیجہ

ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان نے عالمی اور مقامی مالیاتی منڈیوں پر مثبت اثر ڈالا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی اور ڈالر کی قیمت میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کاروں میں اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ اگر یہ جنگ بندی قائم رہتی ہے تو آنے والے دنوں میں پاکستانی معیشت کے مزید مثبت اشاریے سامنے آ سکتے ہیں۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

یو اے ای کی خاموش سفارت کاری نے کس طرح ایک امریکی کو افغانستان سے گھر پہنچایا