پاکستان پر بھارت کے ساتھ کشیدگی کا کوئی بڑا مالی اثر نہیں پڑے گا،
پاکستان پر بھارت کے ساتھ کشیدگی کا کوئی بڑا مالی اثر نہیں پڑے گا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کا پاکستان کی معیشت پر کوئی بڑا منفی اثر نہیں پڑے گا۔ برطانوی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی نئے معاشی جائزے یا پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت نہیں پڑی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان بجٹ سے متعلق اہم مذاکرات 14 سے 23 مئی تک جاری رہے، جن میں اہم معاشی اہداف اور پالیسی امور پر بات چیت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امید ہے کہ آئی ایم ایف بیل آؤٹ معاہدے کے تحت ادائیگی آج متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ تجارتی مسائل وقتی نوعیت کے ہیں اور امید ہے کہ یہ مسائل جلد ہی ’’شارٹ آرڈر‘‘ میں حل ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ پالیسی کا مرکز درآمدات میں اضافہ ہے، خاص طور پر امریکا سے کپاس، سویا بین اور ہائیڈرو کاربن مصنوعات کی درآمد بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
محمد اورنگزیب نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر بھی بات کی اور کہا کہ بھارت کو یہ معاہدہ بحال کرنا ہوگا کیونکہ پانی جیسے اہم مسئلے پر کسی بھی قسم کی غیر ذمے دارانہ رویہ دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
پس منظر:
حال ہی میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں ایک بار پھر کشیدگی دیکھی گئی ہے، جس کے اثرات پر کئی حلقے خدشات کا اظہار کر رہے تھے کہ اس کا اثر پاکستان کی کمزور معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ تاہم وزیر خزانہ کا مؤقف واضح ہے کہ پاکستان نے اپنی معاشی حکمت عملی کو محفوظ اور پائیدار بنانے کے لیے ضروری اقدامات پہلے ہی کر لیے ہیں، اور موجودہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
نتیجہ:
وزیر خزانہ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان، خاص طور پر اقتصادی محاذ پر، اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات، تجارتی حکمت عملی میں تنوع اور علاقائی کشیدگی کے باوجود معیشت پر اعتماد ظاہر کرنا، معاشی استحکام کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts