پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کا سہ فریقی اجلاس:
پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کا سہ فریقی اجلاس: امن، ترقی اور دفاعی تعاون کی نئی راہیں
پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دوسرا سہ فریقی اجلاس آذربائیجان کے تاریخی شہر لاچین میں منعقد ہوا، جس میں تینوں برادر ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ یہ اجلاس نہ صرف علاقائی امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوا بلکہ دفاعی، اقتصادی، سیاسی اور سفارتی تعلقات کو بھی نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم دہرایا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب: امن، انصاف اور بھائی چارے کا پیغام
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آذربائیجان کو یومِ آزادی پر مبارکباد دی اور میزبانی پر صدر الہام علییوف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک مشترکہ مذہب، تاریخ اور اقدار میں بندھے ہوئے ہیں اور یہ سہ فریقی اتحاد امن، انصاف اور ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر بھارت کی جانب سے پلوامہ اور پہلگام حملوں پر پاکستان کو بلاجواز موردِ الزام ٹھہرانے پر تنقید کی اور کہا کہ پاکستان نے تحقیقات میں تعاون کی پیش کش کی تھی جسے نظر انداز کر کے بھارت نے جارحیت کا راستہ اپنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ اور آذربائیجان جیسے سچے دوستوں کا ساتھ پاکستان کے لیے باعثِ افتخار ہے۔
آذربائیجان کا پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان
آذربائیجان کے صدر الہام علییوف نے اجلاس میں اعلان کیا کہ ان کا ملک پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2020 کی جنگ میں ترکیہ اور پاکستان کی مدد کو آذربائیجان کبھی نہیں بھول سکتا۔ صدر علییوف نے دفاعی تعاون، سیاحت، تجارت اور دیگر شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔ آذربائیجان نے بھارت و پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان کی قیادت اور خطے کے استحکام پر زور
ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی اجلاس سے خطاب کیا اور پاکستان، ترکیہ، اور آذربائیجان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت کی تعریف کی اور پاک بھارت کشیدگی میں جنگ بندی کو باعثِ اطمینان قرار دیا۔
صدر اردوان نے کہا کہ ہمارا خطہ اسٹریٹجک لحاظ سے نہایت اہم ہے اور اس میں دفاع، توانائی، غذائی تحفظ، اور ٹرانسپورٹیشن جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
سہ فریقی اتحاد: ترقی، سلامتی اور خودمختاری کی ضمانت
یہ سہ فریقی اجلاس پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان نہ صرف سفارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے میں مددگار ہوگا بلکہ ان ممالک کی مشترکہ سلامتی پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور اقتصادی ترقی کے لیے بھی ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts