پاکستانی سفیر کا انتباہ: "پانی کو ہتھیار بنانا اعلانِ جنگ تصور ہوگا
پاکستانی سفیر کا انتباہ: "پانی کو ہتھیار بنانا اعلانِ جنگ تصور ہوگا"
– امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ "25 کروڑ آبادی کا پانی روکنا ایک کھلی جارحیت اور اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔" انہوں نے یہ بات امریکہ میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
سندھ طاس معاہدہ اور بھارت کا ممکنہ اقدام
پاکستانی سفیر نے سندھ طاس معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوئی قانونی یا اخلاقی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے بھارتی ارادوں کو مسترد کرے گی۔
امریکہ کا مثبت کردار
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ ماضی میں پاک بھارت جنگ بندی میں امریکہ نے اہم اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکی قیادت کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو "امن کے داعی" قرار دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل میں ان کی کوششوں کو سراہا۔
بھارتی قیادت اور ہندوتوا نظریہ
پاکستانی سفیر نے بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کا باعث قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان بیانات سے بھارت کی ہندوتوا پر مبنی دہشت گردانہ سوچ عیاں ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔
مسئلہ کشمیر کا مستقل حل ناگزیر
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق چاہتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموش تماشائی نہ بنے۔
نتیجہ
پاکستان کی قیادت کی طرف سے دیا گیا یہ سخت اور واضح پیغام بھارت کے ان عزائم کو بے نقاب کرتا ہے جن کے تحت وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کا ضامن ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا کرے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts