مسئلہ کشمیر خطے کے بحران کی بڑی وجہ ہے،
مسئلہ کشمیر خطے کے بحران کی بڑی وجہ ہے، چین نے بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کی: اسحاق ڈار
— نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں جاری کشیدگی اور بحران کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر کا تاحال حل نہ ہونا ہے، اور اس بات سے چینی قیادت نے بھی مکمل اتفاق کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حالیہ دورہ چین کے بعد دفتر خارجہ میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔
چین کا دورہ اور اہم ملاقاتیں
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ یہ کوئی معمولی دورہ نہیں تھا بلکہ چینی وزیر خارجہ کی خصوصی دعوت پر کیا گیا۔ اس دورے کے دوران کئی اہم ملاقاتیں ہوئیں، جن میں افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی موجودگی بھی قابل ذکر تھی۔ پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی ایک تہرائی میٹنگ بھی بیجنگ میں منعقد ہوئی جس میں باہمی تعاون اور دہشت گردی کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف مؤقف واضح اور دوٹوک ہے۔ چین میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران تینوں ممالک نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ مل کر دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کریں گے۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کسی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔
بھارتی الزامات اور مریدکے کا معائنہ
اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے الزام تراشیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت گزشتہ 23 برسوں سے یہی دعوے کرتا آ رہا ہے کہ مریدکے اور بہاولپور میں کالعدم تنظیمیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے حالیہ حملے میں 24 مقامات پر چھ پے لوڈ گرائے، لیکن ان جگہوں پر کوئی قابل اعتراض سرگرمی نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 6 مئی کو وزارت اطلاعات نے میڈیا کو مریدکے کا دورہ بھی کرایا تاکہ بھارت کے جھوٹے دعووں کی قلعی کھل جائے۔
مسئلہ کشمیر اور خطے کا امن
وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ خطے میں دیرپا امن صرف مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے اس نکتہ پر پاکستان کی حمایت کی اور خطے میں پائیدار استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ناگزیر قرار دیا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts