وزیراعظم شہباز شریف کا پسرور چھاؤنی میں تاریخی خطاب


 


وزیراعظم شہباز شریف کا پسرور چھاؤنی میں تاریخی خطاب – بھارت کو سخت پیغام

افواج پاکستان کی شجاعت، بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب

پسرور (24 نیوز): وزیراعظم شہباز شریف نے پسرور چھاؤنی میں جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر نریندر مودی نے پاکستان پر دوبارہ حملے کی کوشش کی، تو بھارت کا "بچا کھچا" حصہ بھی ختم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم چاہتے تو بھارت کے تمام ڈیم تباہ کر سکتے تھے۔ اگر بھارت نے پانی بند کرنے کی کوشش کی، تو پھر دریاؤں میں خون بہے گا۔

بھارت سے بدلہ مکمل ہو چکا، پاکستان کو برتری حاصل – وزیراعظم

شہباز شریف نے اپنے پرجوش خطاب میں کہا کہ پاکستان نے بھارت سے 1971 کی جنگ کا بدلہ لے لیا ہے، اور اب بھارت کے "خطے کے تھانیدار" ہونے کا خواب ٹوٹ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان قیامت تک زندہ و جاوید رہے گا، کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

وزیراعظم نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ پاکستان نے جو عظیم فتح حاصل کی، وہ دنیا کے گمان میں بھی نہیں تھی۔ روایتی اور تکنیکی جنگ میں پاکستان کی برتری ثابت ہو چکی ہے، اور دنیا مان رہی ہے کہ اب پاکستان کو بھارت پر واضح سبقت حاصل ہو چکی ہے۔

جنرل عاصم منیر کو خراج تحسین

وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو قوم کا فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی دانش مندی اور دلیری سے جنگ کی تیاری کی۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا، اور دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا۔

پاک فضائیہ کی شاندار کارکردگی – رافیل کو "فیل" کر دیا

وزیراعظم نے پاک فضائیہ کی شجاعت کو بھی بھرپور سراہا اور کہا کہ ہمارے شاہینوں نے فضا میں دشمن پر جھپٹ کر حملہ کیا اور اسے تباہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ نے بھارتی رافیل طیارے کو بھی ناکام بنا دیا، اور دشمن کو فضاؤں میں بھی شکست دی۔

نریندر مودی کو دوٹوک پیغام

وزیراعظم شہباز شریف نے نریندر مودی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا: "دہشتگرد مودی! اپنے بھاشن اپنے پاس رکھو۔" انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کی جرأت اور بہادری پر کتابیں لکھی جائیں گی، اور آئندہ کئی سال تک ماہرین اس جنگ پر تحقیق کرتے رہیں گے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ابوظہبی۔شینزین معاہدہ: مصنوعی ذہانت کے ذریعے عالمی مالیاتی نقشے کی نئی ترتیب

پاک افغان مذاکرات: چین کی ثالثی میں جنگ بندی کی کوششیں

یو اے ای کی خاموش سفارت کاری نے کس طرح ایک امریکی کو افغانستان سے گھر پہنچایا