نیتن یاہو کا ڈونلڈ ٹرمپ کو گولڈن پیجر کا تحفہ:
نیتن یاہو کا ڈونلڈ ٹرمپ کو گولڈن پیجر کا تحفہ: اسرائیل اور حزب اللہ کے حملے کی تفصیلات
اسرائیل کے وزیرِاعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خاص تحفہ دیا جب دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہوئی۔ اس تحفے میں دو پیجر شامل تھے، جن میں سے ایک گولڈن پیجر تھا جبکہ دوسرا عام پیجر تھا۔ اس تحفے کی اہمیت اس وقت واضح ہوئی جب نیتن یاہو نے اس کا مقصد واضح کیا: اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف کیے گئے پیجر حملے کی یاد تازہ کرنا۔
اسرائیل کا حزب اللہ کے خلاف پیجر حملہ
یہ واقعہ گزشتہ سال ستمبر میں پیش آیا جب اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ایک کامیاب آپریشن کیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی موساد نے حزب اللہ کے زیرِ استعمال پیجرز میں دھماکہ خیز مواد بھر دیا تھا۔ اس حملے میں کئی پیجر دھماکے سے پھٹے جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد حزب اللہ کے جنگجوؤں کی نمازِ جنازہ کے دوران بھی پیجرز اور واکی ٹاکی سیٹس میں دھماکے ہوئے تھے۔
نیتن یاہو کا اعتراف
اس دھماکے کے تقریباً دو ماہ بعد، نیتن یاہو نے سرکاری طور پر اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس حملے میں اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے حزب اللہ کی جانب سے آرڈر کیے گئے پیجرز میں دھماکہ خیز مواد بھر دیا تھا تاکہ حزب اللہ کے نیٹ ورک کو تباہ کیا جا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تحفے کو وصول کرتے ہوئے نیتن یاہو کا شکریہ ادا کیا اور اسرائیل کے اس آپریشن کو ایک زبردست کامیاب آپریشن قرار دیا۔ ٹرمپ نے اسرائیل کی انٹیلی جنس اور اس کی حکمتِ عملی کی تعریف کی اور کہا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔
عالمی سطح پر اسرائیل کا اثر
اس حملے نے عالمی سطح پر اسرائیل کی طاقت اور اس کی انٹیلی جنس کی مہارت کو اجاگر کیا۔ اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی نے لبنان میں حزب اللہ کے لیے ایک سخت پیغام دیا اور عالمی سیاست میں اسرائیل کے موقف کو مزید مستحکم کیا۔
نتیجہ
نیتن یاہو کا گولڈن پیجر کا تحفہ نہ صرف اسرائیل کے ایک کامیاب آپریشن کی علامت ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل دنیا بھر میں اپنی انٹیلی جنس کارروائیوں میں کس حد تک کامیاب رہا ہے۔ اسرائیل کے اس قدم نے عالمی سیاست میں ایک نیا رخ اختیار کیا ہے، اور یہ اس بات کا غماز ہے کہ اسرائیل کی سیاسی حکمت عملی میں سخت فیصلے اور موثر اقدامات کا اہم کردار ہے۔
اس تحفے کی کہانی ایک مثال کے طور پر سامنے آتی ہے کہ کس طرح اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی موساد نے حزب اللہ کے خلاف ایک کامیاب کارروائی کی اور عالمی سطح پر اپنی حکمت عملی کو مضبوط کیا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Please let me know if you have any doubts